علم کلام . ایک جائزہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۹
لوگ ان کو پڑھتے تھے مگر کسی قابل اعتماد شخص نے مرید نہیں کہا کہ اس نے کسی معلقہ کو کعبہ کے پردوں پر لٹکا ہوا دیکھا تھا۔ (الدوحة، قطر، ذوالقعده ۱۳۹۵ھ) عرب جاہلیت کا جو کلام ہم تک پہنچا ہے ان میں سب سے زیادہ قابلِ اعتماد یہی معلقاتِ سبعہ ہیں تاہم موجودہ زمانہ میں کچھ محققین نے کلام جاہلیت کے پورے ذخیرہ کی تاریخی حیثیت پر شک کا اظہار کیا ہے حتی کہ معلقات پر بھی۔ ڈاکٹر طہ حسین مصری لکھتے ہیں: عرب قوم آپس میں کینہ رکھنے والی اور ایک دوسرے سے دور رہنے والی قوم تھی۔ ان میں باہمی ربط کے ایسے ذرائع نہیں پائے جاتے جن سے لہجوں کے ایک ہو جانے کا امکان پیدا ہو جاتا۔ یقینی طور پر معقول بات یہی ہے کہ ان عدنانی قبیلوں میں سے ہر قبیلہ کی اپنی زبان اپنا لہجہ ہو۔ مگر ایسی کوئی بات جاہلی اشعار میں نظر نہیں آتی۔ آپ ساتوں معلقات پڑھ سکتے ہیں، اس طرح کہ آپ کو محسوس بھی نہ ہوگا کہ ان کے درمیان زبان کا کوئی اختلاف ہے۔
ساتوں معلقات کی بحر، قافیہ سب ایک جیسے ہیں۔ الفاظ کا استعمال انھیں معنوں میں ہے جن معنوں میں دورِ اسلام کے بعد مسلمان شعراءء کے یہاں پایا جاتا ہے۔
اب ہم دو نظر یوں کے درمیان ہیں۔ یا تو ہم اس بات کو مان لیں کہ عدنان اور قحطان کے عربی قبائل کے درمیان زبان لہجہ اور طرز کلام میں کسی قسم کا اختلاف نہیں تھا۔ یا پھر ہم کو اعتراف کرنا چاہئے کہ یہ اشعار ان قبیلوں سے ایام جاہلیت میں نہیں نکلے ہیں بلکہ عہد اسلام کے بعد ان قبیلوں کے شعرا کی طرف منسوب کر دئے گئے ہیں۔ پہلے کی نسبت ہم دوسرے نظریہ کی طرف زیادہ رجحان رکھتے ہیں۔ کیونکہ عدنان اور قحطان کے درمیان زبان اور لہجہ کا اختلاف خود قدما تک نے تسلیم کیا ہے۔ جدید تحقیق سے بھی ثابت ہوا ہے کہ لغت حمیر (عرب عاربہ) اور لغت عدنان (عرب مستعربه) کی زبانوں کے درمیان سخت اختلاف تھا۔ ابو عمرو بن العلاء سے منقول ہے کہ وہ کہا کرتا تھا:
حمیر کی زبان ہماری زبان نہیں ہے اور ان کا لہجہ ہمارا لہجہ نہیں ہے۔ (الادب الجاہلی) تاہم یہ نقطہ نظر ابھی تک انفرادی ہے۔ کیونکہ عربی ادب کے مورخین کی اکثریت نے اس کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ خاموش آوازوں کو سنئے بعض روایات میں آتا ہے:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم طويل الصمت متواصل الاحزان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر تک خاموش رہتے اور مسلسل غم کی حالت میں نظر آتے تھے۔ امام عبداللہ شعرانی کا مقولہ ہے: من لم ينفعه سكوته لم ينفعه كلامناً جس شخص کو ہماری خاموشی سے فائدہ نہیں ہوگا اس کو ہماری باتوں سے بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ مولانا شاہ وصی اللہ صاحب کے ایک یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز مولانا موصوف مجلس میں آئے مگر بس خاموش بیٹھے رہے، دیر تک اسی حال میں رہے پھر حاضرین مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "آپ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ میں ضرور کچھ بیان کروں گا، یہاں وہی لوگ آیا کریں جو بغیر کچھ سنے صرف بیٹھنے میں بھی فائدہ سمجھیں"۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues