Al-Risala · March 1977 · page

اسم

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷

آپ نے فرمایا کہ تم لوگ نہا لیا کرو۔

۲۔ بنی غفار کی ایک عورت کہتی ہیں کہ میں اپنے قبیلہ کی کچھ عورتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ۔ آپ خیبر کے جہاد کے لئے روانہ ہو رہے تھے۔ ہم نے عرض کیا : اے خدا کے رسول! ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ چلیں، تاکہ زخمیوں کی مرہم پٹی کریں اور جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کی مدد کریں۔ آپ نے فرمایا: علی برکۃ اللہ (اللہ برکت دے چلو)۔ انصاری خاتون ام عطیہؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزووں میں شرکت کی ہے۔ میں مجاہدین کے مجادوں کی دیکھ بھال کے لئے پیچھے رہتی ان کے لئے کھانا پکاتی ،زخمیوں کا علاج کرتی، اور مصیبت زدوں کی نگرانی کرتی۔ اسماء بنت یزید بن سکن حضرت معاذ بن جبل کے چچا کی بیٹی تھیں۔ ان کی بابت حضرت مہاجر بتاتے ہیں کہ انھوں نے جنگ یرموک میں خیمہ کی لکڑی سے سنفورمیوں کو قتل کیا۔ ۳۔ مدینہ کے یہودیوں سے جنگ کے زمانہ کا طرف نہیں آسکتے تھے۔ اتنے میں آنے والا یہودی سامنے سے گزرا۔ میں نے کہا: اے حسان! دیکھو یہ یہودی ہمارے قلعہ کا چکر لگا رہا ہے اور میں خدا کی قسم اس سے مامون نہیں۔ کہیں وہ ہماری اس غیر محفوظ حالت کو یہودیوں سے جاکر کہہ نہ دے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب جنگ میں مشغول ہیں۔ پس اترو اور اس کو جاکر قتل کردو۔ حسان بن ثابت نے کہا: والله لقد عرفت ما انا بصاحب هذا! (خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ میں اس کام کا نہیں)، وہ کہتی ہیں کہ جب انھوں نے مجھ کو یہ جواب دیا اور میں نے اُن کے پاس مارنے کی کوئی چیز بھی نہ دیکھی تو میں نے کمر سے کپڑا کسا اور ایک لکڑی ہاتھ میں لی۔ پھر قلعہ سے اُتر کر اس کے پاس پہنچی اور اس لکڑی سے اس کو مارنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ میں نے اس کو ہلاک کر دیا۔ پھر جب میں اس سے فارغ ہو گئی تو میں قلعہ میں واپس آئی اور حسان بن ثابت سے کہا کہ قلعہ سے اُتر کر جاؤ اور اس کا سامان لاؤ۔ میں صرف اس لئے اس کا سامان واقعہ ہے۔ عورتوں اور بچوں کو ایک قلعہ کی چھت پر جمع کرکے حسان بن ثابت کو ان کی دیکھ بھال کے لئے وہاں رکھا گیا تھا۔ صفیہ بنت عبد المطلب بھی اسی قلعہ کی چھت پر تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ ہمارے قریب سے ایک یہودی گزرا اور ہمارے قلعہ کے چکر لگانے لگا۔ اس وقت بنی قریظہ نے جنگ چھیڑ رکھی تھی۔ اس وجہ سے ہمارے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان راستہ کٹ گیا تھا اور وہاں کوئی نہیں تھا جو یہود کے مقابلہ میں ہماری مدافعت کرے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمان دشمن کے مقابلہ پر تھے ، وہ ان کو چھوڑ کر ہماری اتارنے سے رک گئی کہ وہ مرد تھا، حسان بن ثابتؓ نے کہا: اے عبد المطلب کی بیٹی ! مجھے اس کے سامان کی ضرورت نہیں۔ (البدایہ والنہایہ جلد 4 صفحه ۱۰۸) بولنا ضروری نہیں عربی کا ایک مقولہ ہے: رب کلمة تقول لصاحبها دعنی بعض باتیں اپنے بولنے والے سے کہتی ہیں کہ مجھے چھوڑ دو، یعنی بعض اوقات آدمی ایسی باتیں کہنے لگتا ہے جو کہنے کی نہیں ہوتیں۔ جو اس قدر بے معنی ہوتی ہیں کہ گویا خود ہی چیخ رہی ہوتی ہیں کہ ایسی بات بولنے سے بہتر ہے کہ تو چپ رہے۔

اسم

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page