اسم
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷
اس کام کے لئے اس ملک کو بہترین تجربہ گاہ جانیئے دسمبر ۱۹۷۶ء کے آخری ہفتہ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں ایک سمینار ہوا جس کا عنوان تھا: "فکر اسلامی کی تشکیلِ جدید کا مسئلہ" اس سمینار کا افتتاح صدر جمہوریہ ہند شری فخر الدین علی احمد نے کیا۔ موصوف کے افتتاحی خطبہ کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
"قرآن ایک باضابطہ قانون کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی تعلیم مکمل ہے، ہر ملک کے لئے، ہر قوم کے لئے، ہر فرد کے لئے اور ہر زمانے کے لئے، دراصل ہماری تعلیم نامکمل ہے، اگر ہم کسی شک و شبہ میں پڑ جاتے ہیں تو وہ ہمارے ذہن کی کمزوری ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ اب ہم آزاد ملک کے شہری ہیں۔ اضطراب اور مایوسی کا دور گزر چکا ہے۔ آج ملک بھر میں نئی تعمیر کا جو ولولہ پایا جاتا ہے وہ مسلمانوں کے دلوں کو بھی گرما رہا ہے۔ انھیں اس عظیم ملک کے برابر کے شہری ہونے کی حیثیت سے اس اہمیت کا احساس ہے جو ترقی پذیر ممالک کے درمیان اسے حاصل ہے۔ لازم ہے کہ یہ احساس نئی امنگوں کو جنم دے اور وہ بھی جرات و حوصلہ کے ساتھ ملک اور انسانیت کی تعمیر نو میں حصہ لینے پر کمر بستہ ہو جائیں اس کے لئے انھیں فکر اسلامی سے حیات تازہ حاصل کرنی ہوگی انھیں انفرادی، خاندانی اور ملکی ترقی کا دھیان رکھنا ہوگا اور جذبات کی رو میں بہہ کر دُور رس نتائج پر نگاہ رکھنی ہوگی۔
وقت کا تقاضا ہے کہ بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے ہم آگے بڑھیں اپنے خیالات کو غور و فکر کی نئی روشنی میں ڈھالیں اور ترقی کی دوڑ میں دوسری قوموں کے شانہ بشانہ چلیں۔ اس کے لئے وسیع النظر اور وسیع القلب ہونے کی ضرورت ہے۔ ہماری تاریخ کا شاید ہی کوئی ایسا دور گزرا ہو گا جب اصحابِ فکر و نظر نے اس بات پر غور نہ کیا ہو کہ اسلام کے دائرہ میں رہتے ہوئے زمانے کے تقاضوں کو کس طرح پورا کیا جا سکتا ہے۔ ماضی اور حال میں تال میل پیدا کرنے کی جد و جہد کوئی نئی بات نہیں، گذشتہ صدیوں میں اسلامی علوم کی اشاعت اور اسلامی فکر کی تشکیل میں ہمارے ملک کا جو حصہ رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ جو کام آپ نے شروع کیا ہے، اس کے لئے اس ملک کو بہترین تجربہ گاہ جانئے۔ اس بھروسہ کے ساتھ قدم آگے بڑھائیے کہ پورا ملک ایک ایسی کوشش کو خوش آمدید کہتا ہے، جس کے ساتھ مسلمانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کی بیداری اور ان کے تعمیری حوصلوں میں اضافہ کی اُمیدیں وابستہ ہیں جو لوگ قوم کی فلاح و بہبود کا کام ہاتھ میں لیتے ہیں، خدا انھیں ضرور کامیاب کرتا ہے۔ کسی مسئلہ پر سطحی طور پر غور کرتے ہوئے اُس کے , دُ بشرطیکہ جہد مسلسل اور طلبِ صادق ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues