اسم
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷
اس کے قید خانوں میں ۵۰ ہزار مرد اور ۳۰ ہزار عورتیں بند پڑی ہوئی تھیں“۔
شہادت عثمان کے بعد جب مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوا اور نتیجہ میں بہت سی ایک دوسرے کی حریف جماعتیں پیدا ہوگئیں تو خطابت نے بہت ترقی کی کیونکہ ہر فرقہ اپنے نظریہ کی تبلیغ و اشاعت کے لئے سب سے زیادہ جس چیز پر اعتماد کرتا تھا، وہ خطابت اور تقریر ہی تھی۔ حدیث کی پیش گوئی کے مطابق مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہونے کے بعد پھر ختم نہ ہوسکا اس لئے خطابت اور تقریر کو خوب غذا ملتی رہی اور اتنے زیادہ مقررین پیدا ہوئے جن کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔
تا ہم دورِ سائنس کے ظہور سے پہلے تقریر و خطابت اپنی بعض مضر توں کے ساتھ بہت سے پہلوؤں سے مفید بھی ثابت ہوتی رہی۔ خاص طور پر مقابلہ کے مواقع پر جوش جہاد ابھارنے کے لئے۔ مگر دورِ سائنس میں اس قسم کی خطابت بالکل بے معنی ہو گئی ہے۔ آج علم و عمل کے سارے انداز بدل چکے ہیں۔ اب علم میں تحقیق اور تجزیہ نے اہمیت حاصل کرلی ہے اور عمل میں منصوبہ بندی نے۔ ظاہر ہے کہ تقریر و خطابت کا ان دونوں چیزوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے آج تقریر کا مقام وہی ہو چکا ہے جو مشاعروں میں شاعری کا ہوا کرتا ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ان حالات میں جو لوگ اب بھی تقریر و خطابت کے کمالات دکھا رہے ہیں وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ انھیں زمانہ کی تبدیلیوں کی خبر نہیں۔ ان کی سرگرمیاں ممکن ہے کسی میوزیم میں جگہ پاسکیں مگر ان کو حال یا مستقبل کی تعمیر کا عنوان نہیں دیا جا سکتا۔ ٹن نائلون و پلاسٹک کے بٹن ہر کوالٹی اور ہر رنگ میں قمیص ، کوٹ ، پینٹ ، چٹر اور کالر ، شولڈر پیڈ وغیرہ کیلئے ہول سیل ریٹ پر طلب فرمائیں۔
دہلی بٹن اسٹور ۱۱۰۵ نواب منزل کشن گنج آزاد مارکیٹ دھلی ۔ ۱۱۰۰۰۶
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues