Al-Risala · March 1977 · page

اسم

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷

جو لوگ تقریر و خطابت کے کمالات دکھا رہے ہیں وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ انھیں زمانہ کی تبدیلیوں کی خبر نہیں لے کر عصر تک اس طرح مسلسل بولتا رہا کہ درمیان میں ایک بار بھی کہیں نہیں اٹکا۔ تمام حاضرین حیرت زدہ ہو کر رہ گئے۔ امیر معاویہ نے کہا "واقعی تم عرب کے سب سے بڑے خطیب ہو۔ " سحبان نے برجستہ کہا: نہ صرف عرب کا بلکہ سارے عجم کا اور جن و انس کا بھی۔ “ زیاد بن ابیہ (م ۵۳ھ) نے ایک بار حضرت عمر کی موجودگی میں مہاجرین و انصار کے سامنے تقریر کی۔ تقریر اتنی کامیاب تھی کہ اس کو سن کر عمرو بن العاص بول اٹھے: "سبحان اللہ! اس نوجوان کا باپ اگر قریشی ہوتا تو یہ اپنے عصا سے عربوں کی قیادت کرتا۔ " حجاج سحبان وائل دم (۵ھ، خوش بیانی میں بن یوسف ثقفی (۹۵ - ۴۱ھ، کو زبان و بیان کی ضرب المثل ہے۔ امیر معاویہ کے دربار میں شامل ہو کر اس حیرت انگیز صلاحیت حاصل تھی۔ مالک بن دینار کہتے نے بڑی عزت پائی۔ ایک بار خراسان سے ایک وفد امیر ہیں: میں نے حجاج سے زیادہ اثر انگیز اور خوش بیان معاویہ کے یہاں آیا۔ انھوں نے سحبان کو بلوایا اور اس مقرر نہیں دیکھا۔ جب وہ ممبر پر کھڑا ہو کر عراقیوں کے ساتھ سے تقریر کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے کہا میرے اپنے احسانات اور عفو کا ذکر کرتا اور اس کے مقابلہ لئے عصا لاؤ۔ لوگوں نے کہا "امیر المومنین کے دربار میں عراقیوں کی زیاد تیاں اور بد سلوکیاں بیان کرتا میں تم عصا سے کیا کرو گے ؟ " اس نے جواب دیا وہی تو میں اس کو سچا اور عراقیوں کو جھوٹا سمجھنے لگتا۔ جو موسیٰ اپنے رب سے باتیں کرتے وقت اپنے عصا حالانکہ اس نے ان میں سے ایک لاکھ ۲۰ ہزار قیدیوں سے کرتے تھے۔ " اس کے بعد تقریر شروع کی تو ظہر سے ڈال کر مار ڈالا تھا، اور جب اس کا انتقال ہوا تو اس وقت آدمی کو کتنی خوشی ہوتی ہے جب وہ اپنے بنائے ہوئے نئے مکان کو دیکھتا ہے۔

کاش انسان جانتا کہ اس وقت اسے اور زیادہ خوشی ہوگی جب وہ آخرت میں اپنے تعمیر کئے ہوئے مکان کو دیکھے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page