اسم
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۴
پیغمبر خارجی دنیا کے حالات کو نظر انداز کر کے اپنے کام کا آغاز کرتا ہے قدیم عرب کا تصور کیجیے۔ جنوب میں بحر عرب اور مشرق و مغرب میں خلیج فارس اور بحر احمر کے درمیان بننے والا یہ جزیرہ نما زبردست سیاسی مسائل سے دوچار تھا۔ عرب کے مشرق میں ایران تھا جہاں طاقت ور ساسانی سلطنت قائم تھی۔ شمال میں رومی یا باز نطینی سلطنت تھی جو دور قدیم کی سب سے بڑی شہنشاہیت مانی جاتی ہے۔ ان دونوں سلطنتوں نے عرب جغرافیہ کو اپنی سیاست کا اکھاڑہ بنا رکھا تھا۔ عرب کے بہترین زرخیز علاقے براہ راست ان کے قبضے میں تھے۔ عراق پر ایرانیوں نے قبضہ کر رکھا تھا۔ شام اور اردن اور فلسطین اور لبنان رومی سلطنت کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ عرب کے مشرق و مغرب میں اگر چہ خلیج فارس اور بحر احمر کی قدرتی آبی دیواریں تھیں مگر یہ حصے بھی پڑوس کی طاقت ور شہنشاہیتوں کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہ تھے۔ مشرق سے ایران کے بحری بیڑے خلیج عمان کو عبور کر کے نہایت آسانی سے عرب کے علاقے میں گھس آتے تھے۔ مغرب میں بحر احمر کے اُس پار کے دونوں ممالک ۔ مصر اور حبشہ رومی شہنشاہیت کے ماتحت تھے۔ اور وہ ان کے ذریعے سے ہر وقت عرب کے بظاہر اس محفوظ حصہ میں دخل اندازی کر سکتا تھا۔
عرب کے اندرونی علاقہ میں قبائلی سرداروں کی ریاستیں قائم تھیں۔ مگر رومیوں اور ایرانیوں کے عمومی تسلط کی وجہ سے ان کے لئے بھی زندگی کی صورت یہی تھی کہ ان بیرونی شہنشاہیتوں کی ماتحتی قبول کر کے اپنا سیاسی جزیرہ بنائیں۔ شمال میں شام کی سرحدوں سے ملی ہوئی امارت غساسنہ عربیہ تھی جو رومی سلطنت کے تابع تھی اور بعثت نبوی کے زمانہ میں اس کا امیر حارث بن ابی شمر غسانی تھا۔ اسی طرح امارت بصریٰ تھی ۔ وہ بھی رومی شہنشاہیت کے زیر اثر تھی۔ یہاں رومی تمدن چھایا ہوا تھا اور ان کے اثر سے یہاں کے باشندوں کی بڑی تعداد مسیحی ہوگئی تھی۔
عراق کی سرحد پر امارت حیرہ عربیہ تھی جو ایران کے تابع تھی۔ خلیج فارس کے کنارے متعدد عرب ریاستیں تھیں۔ وہ سب ایران کے زیر اثر تھیں، مثلاً امارت بحرین، جس کا امیر منذر بن ساوی تھا۔ یہاں کے باشندوں کی بڑی تعداد ایرانی تہذیب کے اثر سے مجوسی ہو چکی تھی۔ امارت عمان، جس کے امیر جلندی کے دو لڑکے جیفر اور عبد تھے۔ امارت یمامہ، جس کا امیر ہو دہ بن علی الحنفی تھا۔ رومیوں اور ایرانیوں میں سیاسی رقابت کی وجہ سے اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں۔ ان میں رومیوں کی ماتحت عرب ریاستیں (مثلاً غساسنہ) روم کا ساتھ دیتی تھیں اور ایران کی ماتحت عرب ریاستیں (مثلاً حیرہ) ایران کا۔ اس طرح ایران و روم کی باہمی لڑائیوں میں عرب خون بھی خوب بہتا تھا۔
قدیم یمن، موجودہ یمن سے بہت زیادہ وسیع تھا۔ اس میں مختلف قبائل کی حکومتیں قائم تھیں۔ یہ سب سے بڑا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues