اسم
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۸
یعنی علاقہ وہ تھا جس کا دار السلطنت صنعاء تھا۔ نجران اسی کے اندر واقع تھا یمن میں بیرونی نفوذ کا آغاز غالباً ۵۳۶ء سے ہوتا ہے جب کہ سلطنتِ روم نے یہاں اپنے عیسائی مبلغین بھیجنے شروع کئے۔ ان عیسائی مبلغین کو نجران میں کامیابی ہوئی اور وہاں کے بیشتر لوگ عیسائی ہو گئے۔
اس مذہبی واقعے میں روم کے حریف ایران کو سیاست کی بو محسوس ہوئی۔ انھوں نے سمجھا کہ اس طرح رومی شہنشاہ عرب کے جنوبی علاقہ میں نفوذ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایرانیوں نے اس کے توڑ کے لیے یمن کے یہودی قبائل کو ملایا جن کو رومی سلطنت نے سنہ ۵۲۵ء میں شام سے نکال دیا تھا اور وہ وہاں سے جلا وطن ہو کر یمن میں آبسے تھے۔ عیسائیوں اور یہودیوں کی ضد میں یہودی بہت جلد ایرانیوں کے ساتھ ہو گئے یوسف ذو نواس جو ایک عرب تھا اور پھر یہودی ہو گیا تھا ایرانیوں کی مدد سے اس نے صنعاء پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ یہ ایک نیم آزاد عرب حکومت تھی جو ایرانیوں کے ماتحت قائم ہوئی تھی۔ یوسف ذو نواس نے یمن کی بادشاہت حاصل کرنے کے بعد عیسائیوں کو یمن سے ختم کرنے کی کوشش شروع کر دی حتی کہ ۵۲۳ء میں نجران کے بہت سے عیسائیوں کو زندہ جلا دیا۔
اب رومیوں کی باری تھی۔ قیصر روم نے یمن میں عیسائیت کے تحفظ کے نام پر اور حقیقتاً اپنے نفوذ کو بحال کرنے کے لیے ایک تدبیر کی۔ اس نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کیا۔ نجاشی مذہبی عیسائی تھا اور رومی حکومت کے ماتحت تھا اس نے نجاشی کو ابھارا کہ یوسف ذو نواس سے بدلہ لے، نجاشی نے ایک حبشی سردار ابیاط کو فوج دے کر روانہ کیا۔ اس نے مختصر جنگ کے بعد صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ ذو نواس نے سمندر میں ڈوب کر خود کشی کر لی۔ کچھ دنوں بعد ابیاط کی فوج کے ایک سردار ابرہہ نے بغاوت کر کے ابیاط کو قتل کر ڈالا اور نجاشی کو راضی کر کے صنعاء کی حکومت کا فرمان حاصل کر لیا۔ یہی ابرہہ ہے جس نے ۵۷۱ء میں کعبہ پر حملہ کیا۔ ابرہہ کے بعد اس کا بیٹا یکسوم اور اس کے بعد دوسرا بیٹا مسروق حکمران ہوا۔
سابق ملوک یمن کی اولاد میں ایک شخص سیف بن ذی یزن تھا۔ اس کو خیال ہوا کہ اپنے ملک کو غیر عربوں کے نفوذ سے پاک کرے اور اپنی آبائی سلطنت کو دوبارہ حاصل کرے۔ اس نے یمن میں آزادی کی تحریک (حركة تحریدية) چلائی، صرف مقامی تعاون مقصد کے حصول کے لئے ناکافی تھا۔ چنانچہ وہ ایرانی بادشاہ نوشیرواں کے پاس پہنچا اور اس سے درخواست کی کہ وہ اپنی فوج سے یمن کی تحریک آزادی کی مدد کرے۔ ایرانی شہنشاہ کے لئے یہ سنہراموقع تھا۔ اس نے ایک ایرانی سپہ سالار دهرز کی سرکردگی میں ایک لشکر یمن بھیجنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ اس درمیان میں سیف بن ذی یزن مرگیا۔ تاہم اس کالڑ کا معدی کرب ایرانی فوج کو یمن لانے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ لوگ خلیج عمان کو عبور کر کے حضرموت کے ساحل پر اترے۔ وہاں سے صنعاء پہنچے معدی کرب نے ایرانی لشکر کی مدد سے حبشہ کی فوج کو شکست دے دی اور حبشیوں کو یمن سے نکال دیا۔ اب معدی کرب صنعاء کا بادشاہ تھا تاہم ایرانی فوج بھی یہاں مقیم رہی معدی کرب کے مرنے کے بعد ایرانی فوج نے صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح صنعاء ایران سلطنت کا ایک سمندر پار صوبہ بن گیا۔ جیسا اسلام یمن میں پہنچا ہے تو صنعاء کے ایرانی گورنر باذان تھے جو بعد کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues