آپ بیتی
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۹
مسلمان ہو گئے۔
مذکورہ تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے پیغمبر اسلام کی بعثت ہوئی تو عرب کا علاقہ کس طرح ایرانی اور رومی استعمار کی شکار گاہ بنا ہوا تھا۔ ان حالات میں ایک مصلح کے لئے بیک وقت دو راستے کھلے ہوئے تھے۔ ایک یہ کہ وقت کے حالات سے متاثر ہو کر سامراجی طاقتوں کے خلاف سیاسی لڑائی شروع کر دے۔ دوسرے یہ کہ خود اپنے اپنے آپ کو اندر انا نادر اتنا مضبوط بنایا جائے کہ سامراج کی عمارت معمولی کوشش سے گرپڑے۔ آپ نے اپنی مہم کے پہلے طریقہ کے بجائے دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۵ (فیل) اور سورہ نمبر ۱۰۶ (قریش) میں ابر ہہ (حاکم یمن) کے مکہ کے خلاف جارحانہ منصوبہ کا ذکر ہے۔ مگر اس کے جواب میں جس عمل کی تلقین کی گئی ہے، وہ رب کعبہ کی عبادت (قریش - ۳) ہے۔ گویا اسلامی مزاج یہ ہے کہ کہ سیاسی چیلنج درپیش ہو تو اس کا جواب بھی عبادتی عمل کی سطح پر تلاش کیا جائے۔
آپ بیتی
ہر شخص کی زندگی میں بعض ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو اپنے غیر معمولی پن کی وجہ سے یاد رہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ الرسالہ میں اس قسم کا کوئی واقعہ ہر ماہ شائع کریں۔ پہلی قسط کے طور پر یہاں ایک واقعہ درج کیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں جو لوگ تعاون کریں ، وہ براہ کرم واقعہ کو سادہ تاریخی انداز میں لکھیں اور اپنے نام پتے کے ساتھ اپنا سال پیدائش بھی ضرور تحریر فرمائیں ۔ (ادارہ) ۱۹۴۱ کے شروع کا واقعہ ہے۔ میں فوجی دفتر کی ایک شاخ (اے جز برانچ) کے سیکشن (اے جی نمبر ۱۱) واقع نئی دہلی میں ملازم تھا۔ میرے ایک ساتھی عالم چند سنگھ تھے۔ انھوں نے ایک موقع پر دفتر کی ایک فائل اس وقت کے ہمارے سیکشن کے انچارج افسر کے پاس کاغذات پر دستخط کرنے کے لئے بھیجی۔ یہ ایک انگریز کرنل تھا جس کا نام اب مجھے یاد نہیں۔ اس افسر نے فائل دیکھی تو اس کو ایک کاغذ نظر نہیں آیا جس کی اسے خاص ضرورت تھی۔ اس نے نہایت ناراضگی کے لہجہ میں یہ نوٹ لکھ کر فائل کو اپنے ماتحت مسٹر عالم چند سنگھ کے پاس بھیجا کہ فلاں کاغذ اس میں کیوں نہیں ہے ۔
عالم چند سنگھ نے فائل کو غور سے دیکھا تو اس میں مطلوبہ کاغذ موجود تھا۔ چنانچہ انھوں نے فائل کو دوبارہ اپنے انگریز افسر کے پاس بھیجا اور لکھا کہ جناب فائل کے فلاں صفحہ کو ملاحظہ فرمائیں جس میں مطلوبہ کاغذ موجود ہے۔ افسر نے دوبارہ فائل کا جائزہ لیا تو کاغذ اس کے اندر موجود تھا۔ اس کو اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا۔ اس نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے فائل پر موٹی سرخ پنسل سے اپنے سابقہ نوٹ کے ساتھ لکھ دیا : I WAS BLIND THEN میں اس وقت اندھا تھا ۔
حاجی اختر محمد خاں (پیدائش ۱۹۱۵)
محلہ کوٹ ، بگراسی، ضلع بلند شہر
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues