Al-Risala · March 1977 · page 53

لا یدخل الجنة من كان فی قلبه

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۵۳

۹۰ھ میں قوط (گاتھ) قبائل اسپین میں گھس آئے اور پانچ سو سالہ رومی سلطنت کو ختم کرکے وہاں اپنی حکومت قائم کرلی۔ بعد کو ان لوگوں نے ٹھیک اسی طرح مسیحی مذہب کو اختیار کرلیا جس طرح ترکوں کے ایک گروہ بنو سلجوق نے مسلم دنیا پر قابض ہونے کے بعد اسلام قبول کرلیا۔ گاتھ کا مقصد اس تبدیلی مذہب یہ تھا کہ مقامی عیسائیوں کو مطمئن کرکے اسپین میں اپنے سیاسی اقتدار کو مستحکم کریں۔ جس زمانہ میں مسلمانوں نے باز نطینی اقتدار کو شام، مصر، فلسطین سے ختم کیا، طلیطلہ (ٹالیڈو) پر گاتھ کا آخری بادشاہ ڈئیکا (ریفش) حکمراں تھا۔ ڈئیکا کی بعض کمزوریوں سے اس کے ایک فوجی افسر ذریق (RADRICK) کو موقع ملا کہ وہ اس کی حکومت کا تختہ الٹ دے اور خود اسپین کا حکمراں بن جائے۔ سبطہ کا گورنر جولین اگرچہ ڈئیکا کا رشتہ دار تھا۔ تاہم اس نے مصلحت کے تحت اپنی وفاداریاں ذریق سے وابستہ کردیں۔ مگر بعد کو ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے اس کو بے حد مشتعل کردیا۔ اور اس کو اپنے بادشاہ کا مخالف کرکے مسلمانوں کے قریب کردیا جو افریقی براعظم میں اس کے جغرافی پڑوسی تھے۔

اس زمانہ میں اسپین کا حکمران طبقہ بدترین قسم کی عیاشیوں کا شکار تھا۔ رواج کے مطابق امراء کی لڑکیاں عرصہ تک شاہی محل میں رکھی جاتی تھیں تاکہ شاہی آداب و قواعد کو سیکھ سکیں اور بادشاہ کی خدمت کریں۔ ذریق کے عہد میں جولین کی لڑکی فلورنڈا بھی اسی رواج کے مطابق شاہی محل میں داخل ہوئی۔ لڑکی جوان ہوئی تو ذریق اس پر فریفتہ ہوگیا اور جبر یہ طور پر اس کی عصمت دری کی۔ لڑکی نے کسی طرح اس واقعہ کی اطلاع اپنے باپ کو دی۔ جولین کو اس واقعہ کا انتہائی صدمہ ہوا۔ اس نے قسم کھائی کہ جب تک ذریق کی سلطنت کو دفن نہ کرلے، چین سے نہ بیٹھے گا۔ اولا وہ طلیطلہ گیا اور لڑکی کی ماں کی بیماری کا بہانہ کرکے اس کو سبطہ واپس لایا۔ اس کے بعد وہ موسیٰ بن نصیر سے ملا اور اس کو اکساکر تسخیر اندلس پر آمادہ کیا۔ اس نے موسیٰ کو اندلس کی اندرونی کمزوریاں بتائیں اور وعدہ کیا کہ وہ اور خود اندلس کے بہت سے لوگ اس مہم میں اسلامی فوج کا ساتھ دیں گے۔ یہ واقعہ ۹۰ھ کا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جولین نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنا نام مسلم رکھا تھا۔

اس کے بعد موسیٰ بن نصیر نے خلیفہ ولید بن عبد الملک سے خط و کتابت کی کئی خطوط کے بعد ولید نے لکھا: مسلمانوں کو خوفناک سمندر میں نہ ڈالو۔ اگرچہ پر امید موجب بھی ابتداے تھوڑی سی فوج بھیج کر صحیح اندازہ کرو۔ موسیٰ نے رمضان ۹۱ ھ میں ایک شخص طریف کو، جس کی کنیت ابو زرعہ تھی پہلی مہم کے طور پر پانچ سو آدمیوں کے ساتھ اسپین روانہ کیا۔ جولین بھی ان کے ساتھ تھا۔ شمالی افریقہ کے ساحلی ملک مراکش اور اسپین کے درمیان صرف دس میل کا آبی فاصلہ ہے۔ ان لوگوں نے چار کشتیوں کے ذریعہ اس کو عبور کیا اور دوسری طرف ساحل پر اتر گئے۔ یہ لوگ ساحلی علاقوں میں رہے اور وہاں کے حالات کا اندازہ کرکے دوبارہ واپس آگئے۔ اس کے بعد اگلے سال رمضان ۹۲ ھ میں طارق بن زیاد کی سرکردگی میں سات ہزار کا لشکر تیار کیا گیا۔ دس میل کی آبنائے کو پار کرکے جب وہ لوگ اسپین کے ساحل پر اترے تو کہا جاتا ہے کہ طارق نے اپنی تمام کشتیاں جلا دیں۔ مگر کشتیاں جلانے کا واقعہ بعد کا اضافہ شدہ افسانہ معلوم ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں، اور آج بھی‘ فاتح

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page