Al-Risala · March 1977 · page 2

لا یدخل الجنة من كان فی قلبه

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲

تاریخ انسانی عمل کا ریکارڈ ہے۔ لیکن تاریخ کو اگر افسانہ بنا دیا جائے تو وہ ایک ایسا ذہنی کار خانہ بن جاتی ہے جس میں صرف خوش فہمی کی مہلک گولیاں تیار ہوتی ہوں۔

یہ ایک سوچا سمجھا ہوا منصوبہ نہ تھا نہ کہ محض پر جوش اقدام طارق بن زیاد رمضان ۹۱ ھ میں اسپین کے ساحل پر اترے تو ان کے ساتھ سات ہزار کا لشکر تھا ساحل افریقہ اور اسپین کے درمیان دس میل کی آبنائے کو ان کے لشکر نے چار کشتیوں کے ذریعہ پار کیا تھا۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ زمانہ کے ایک مورخ اسلام لکھتے ہیں:

" اس سے اس زمانہ کے جہازوں کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ کتنے بڑے تھے "

موصوف نے قیاس کیا کہ پورا لشکر ایک ہی بار چار کشتیوں پر لے کر دوسری طرف پہنچ گیا ہوگا۔ حالاں کہ یہ صحیح نہیں اس زمانہ میں ایسی کشتیاں وجود میں نہیں آئی تھیں جن پر دو ہزار فوجی اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ بیک وقت بیٹھ سکیں۔ اصل یہ ہے کہ ان لشکر یوں نے کئی پھیروں میں آبنائے طارق کو پار کیا تھا ۔ ساتویں صدی عیسوی کے آخر تک مسلمانوں نے افریقہ کو بحر روم کے آخری ساحل تک فتح کر لیا تھا۔ باز نطینی سلطنت ایشیا اور افریقہ سے ختم ہو چکی تھی۔ تاہم مراکش کے ساحل پر سبطہ اور اس کے مضافات ۔ علاقے اب بھی اسپینی گورنر یلیان (کاؤنٹ جولین) کے قبضہ میں تھے۔ یہاں رومیوں نے زبر دست قلعہ بنایا تھا۔ مو بن نصیر نے اس کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ مگر ان کی طاقت دیکھ کر بالآخر انھوں نے مصلحت یہ سمجھی کہ جولین سے " کر لیں اور اس ساحلی قلعہ کو اس کے قبضہ میں چھوڑ دیں۔ افریقہ سے باز نطینی سلطنت کے خاتمہ کے بعد جولین نے ! سیاسی تعلقات اسپین کی عیسائی حکومت سے قائم کر لئے ۔ سبطہ اس وقت اندلس کا ایک سمندر پار صوبہ سمجھا جاتا ؟ اندلس سے بہتر کشتیوں کے ذریعہ اس کو مدد پہنچتی رہتی تھی ۔

یہاں یہ سوال ہے کہ جو مسلمان اسپین کے ایک ماتحت گورنر سے خود اپنے مفتوحہ ہر اعظم میں صلح کرنے پر مجبور تھے ، انھوں نے سمندر پار کر کے خود اسپین پر حملہ کرنے کی جرات کس طرح کی۔ اس کا جواب زیر بحث مسئلہ کے تار مطالعہ سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page