Al-Risala · March 1977 · page 55

لا یدخل الجنة من كان فی قلبه

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۵۵

طارق نے پیغام رسانی کا یہ تمام کام کشتیوں کے ذریعہ کیا۔ کوئی دوسرا ذریعہ اس زمانہ میں ممکن نہ تھا، اور پھر یہ کشتیاں ہی تھیں جنھوں نے پانچ ہزار فوجیوں کی دوسری قسط کو اسپین کے ساحل پر اتارا، جس کے بعد طارق اس قابل ہو سکے کہ وہ اسپین پر حملہ کر سکیں۔ طارق اگر اسپین کے ساحل پر اترتے ہی اپنی کشتیوں کو جلا دیتے تو یہ پیغام رسانی ممکن نہ ہوتی۔ اور نہ مقابلہ کے وقت مزید کمک پہنچ سکتی۔

اس معرکہ میں جولین بھی پوری طرح طارق کے ساتھ تھا۔ اس نے شاہ رذریق کے خلاف مقامی باشندوں کی ناراضگی سے فائدہ اٹھایا اور اپنے تعلقات کی بنیاد پر اسپینی شہریوں کی ایک جماعت طارق کی خدمت میں حاضر کر دی۔ ان لوگوں نے دشمن کی خبریں فراہم کرنے کا کام اپنے ذمہ لیا اور فوجی اعتبار سے کم زور مقامات کی اطلاع مسلمانوں کو دی اور مسلمانوں کی رہبری کرتے رہے۔ یہ واقعہ بھی مسلمانوں کے لئے ایک نعمت ثابت ہوا کہ تین سال (۷۱۱ - ۷۱۴ ء) تک اندلس میں سخت قحط پڑا تھا، اس کی وجہ سے اتنے لوگ مرے کہ کہا جاتا ہے کہ اندلس کی آبادی آدھی رہ گئی۔ مزید یہ کہ رذریق کی ایک لاکھ فوج میں ایک عنصر ایسا بھی تھا جو سابق شاہ اسپین سے عقیدت رکھنے کی وجہ سے باغی رذریق کا اندر اندر مخالف تھا۔ ان کے فوجی سرداروں میں شسرت اور ابتہ بھی تھے جو سابق شاہ کے بیٹے تھے۔ انھوں نے اپنی خفیہ میٹنگ کی اور کہا:

"رذریق خبیث ہمارے ملک پر خواہ مخواہ مسلط ہو گیا ہے، حالاں کہ شاہی خاندان سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ تو ہمارے یہاں کے کینوں میں سے ہے، رہے مسلمان، وہ تو صرف وقتی لوٹ مار کے لئے آئے ہیں۔ اس کے بعد اپنے وطن کو واپس چلے جائیں گے۔ اس لئے مقابلہ کے وقت اس خبیث کوزک دینے کے لئے ہم کو خود شکست کھا جانا چاہئے "

رذریق کی فوج کے ایک حصہ نے نہایت سخت جنگ کی۔ مگر غیر مطمئن فوجیوں نے جنگ میں زور نہیں دکھایا۔ بالآخر شکست ہوئی اور رذریق میدان جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کے بعد وہ نہ زندہ مل سکا نہ مردہ۔ کہا جاتا ہے کہ بھاگنے کے دوران وہ ایک دلدل میں پھنس کر مر گیا۔

اسپین کے بعض علاقوں کو طارق نے فتح کیا۔ بعض کو مغیث رومی نے، بعض کو موسیٰ بن نصیر نے، جو بعد کو ۱۸ ہزار فوج کے ساتھ اندلس میں داخل ہوئے تھے۔ رعایا کی اپنے بادشاہ اور سرداروں سے بیزاری کی وجہ سے ان کو خود اسپینیوں میں مددگار اور جاسوس ملتے چلے گئے۔ تمام مورخین لکھتے ہیں کہ غیر مسلم جاسوسوں نے اسپین کی ابتدائی فتوحات میں بہت مدد کی تھی۔

یونیورسٹی کے ایک استاد نے اپنے ساتھی سے ماہنامہ الرسالہ کا تعارف کرتے ہوئے کہا: IT PRESENTS ISLAM AS A LIVING FAITH یہ اسلام کو ایک زندہ مذہب کی حیثیت سے پیش کرتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page