Al-Risala · March 1977 · page 56

لا یدخل الجنة من كان فی قلبه

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۵۶

قدیم زمانے میں انسان کس طرح لکھتا تھا قدیم زمانہ میں انسان تصویر و غلیفی HIEROGLYPHICS دنیا کی سب سے قدیم اور پہلی حروف تہجی) یہ تصویری خط اوپر سے نیچے کی طرف اور کبھی اس کے برعکس لکھا جاتا تھا۔ اس خط کے کاتب مندروں کے پجاری تھے اور یہ خط صرف مقتدرایانِ مذہب کے لئے مخصوص تھا۔ دیوتاؤں کے منتر، دیوانیاں اور جملہ مذہبی دعائیں اور احکامات، تنقیدیں اور سرکاری احکامات، کتبات اور تاریخی واقعات نِشَرى مِنها سها پتھروں، آج کی دیواروں اور لکڑی کے تابوتوں پر کندہ کیے گئے چاکے تھے ، یہ خط پڑھنے میں بہت مشکل تھا۔ اہرام مصر اور شہر ایڈفو (EDFU) میں دیوتا ہورس کے مندر اور خصوصاً دیوتا آمون کے مندر TEMPLE OF AMUN) میں اس خط میں بکثرت عبارتیں موجود ہیں۔ خط صماری مورخ بروسوس کا ہن کلدانی (چار سو برس قبل مسیح ) کی تاریخ سے ثابت ہے کہ چار ہزار برس قبل مسیح بابل میں سمیّرین قوم کی حکومت تھی۔ سمیّرین تہذیب قدیم مصر کی ہمعصر تہذیب تھی۔ یہ قوم دجلہ اور فرات کے درمیانی علاقہ میں پھیلی ہوئی تھی ۔ یونانیوں نے اس سر زمین کا نام میسوپوٹامیہ (دو آبہ) رکھا تھا۔ بابل کے عین جنوب میں واقع قدیم شہر نیپور (NIPOUR) کی کھدائی کے دوران سختہ اینٹوں پر اس دور کے کتبات حاصل ہوئے ہیں حن، پر تصوراں پور) (NIPOUR) کی ھدای کے دوران پر چہ امیون پر اس دور کے لبهات حاصل ھوۓ ہیں جن پر تصویریں کے ساتھ ساتھ خط مسماری میں عبارتیں لکھی ہوئی ہیں ۔ اقتباس زیر طبع کتاب " عربی خط " ، تاریخ ، طرز نگارش ، عہد بعد ترقيات ) تالیف: سید احمد آرٹسٹ رام پوری ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page