عمل کرتے ہوئے خیر امت کا مظاہرہ کرے
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۵۸
عقود فاسدہ کا مسئلہ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ احکام اسلام پر
عمل کرتے ہوئے خیر امت کا مظاہرہ کرے
عقود فاسدہ کے جواز کا مطلب کیا ہے۔ کیا دارالامن میں دارالحرب جیسے معاملات جائز ہیں۔ یہ اس سوال کا جواب اثبات میں دیا جا سکتا ہے۔ مگر بنیادی طور پر فقہاء کا یہ مسلمہ اصول یاد رکھنا ضروری ہے۔ المسلم ملتزم بحکم الاسلام حيث مايكون (شرح كبير جلد ۴) مسلمان احکام اسلام کا پابند ہے جہاں کہیں بھی وہ ہو۔
چنانچہ خیانت، دھوکہ، رشوت، احتکار (ذخیرہ اندوزی)، استحصال بالجبر، ٹیکس کی چوری وغیرہ جس طرح دارالاسلام میں حرام ہیں دارالحرب میں بھی حرام ہیں۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ان سب برائیوں سے باز رہے۔ اور خصوصاً ایسے موقع پر کہ یہ امراض وبا کی طرح پھیل رہے ہوں۔ مسلمان پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ احکام اسلام پر عمل کرتے ہوئے خیر امت ہونے کا مظاہرہ کرے۔ یہی موقعہ ہے کہ عملاً اسلام کی برتری ثابت کی جا سکتی ہے۔ اور دوسروں کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ باقی بہت سے معاملات ایسے ہیں جو دارالاسلام میں اسلامی قانون کے مطابق ناجائز ہوتے ہیں اگر ان کے سلسلہ میں کوئی مقدمہ اسلامی عدالت میں پیش ہو تو عدالت اس کے ناجائز ہونے کا فیصلہ کرے گی اور اس خرید و فروخت کو ناجائز قرار دے گی لیکن یہی معاملات اگر دارالحرب میں کئے جائیں۔ تو وہاں کے قانون کے مطابق وہ غلط نہیں ہوتے بلکہ ان کو جائز قرار دیا جاتا ہے مثلاً ایک من گیہوں کے معاوضہ میں ڈیڑھ من یا دو من گیہوں خریدنا "ربوا "کہلاتا ہے جو اسلامی قانون کے مطابق جائز نہیں ہے۔ اس طرح کی بیع اگر دارالاسلام میں ہو اور مقدمہ عدالت میں پہونچے تو اس بیع کو ناجائز قرار دیا جائے گا۔ لیکن اگر یہ دارالحرب میں ہو اور وہاں کا قانون اجازت دیدے تو اسے مسلمان کی ملک تصور کیا جائے گا۔
اب اگر کوئی فریق دارالاسلام میں اس مقدمہ کو چلانا چا ہے تو قاضی اسلام اس کو خارج کر دیگا کیونکہ یہ معاملہ دارالاسلام کا نہیں ہے۔ اسی طرح کے احکام ہیں جن کے متعلق مشہور ہو گیا ہے کہ دارالحرب میں بیوع فاسدہ جائز ہوتی ہیں بشرطیکہ فریقین راضی ہوں اور معاملہ خوش دلی سے ہو۔ سیر کبیر میں ہے۔ اذا دخل المسلم دار الحرب بامان فلا بأس بان ياخذ منهم اموالهم بطیب انفسہم بای وجه کان لانه انما اخذ المباح علی وجه عَرِيَ عن الْغَدْرِ فیکون ذلک طیباً له والاسیرو المستامن سواء حتی لو باعهعم درهما بدر همین او باعهم میتة بدر اهم او اخذ مالا منهم بطریق القمار ذلک کلہ طیب لہم ( سیر کبیر بحواله كشف الاسار)
کوئی مسلمان دارالحرب میں پروانہ امن (ویزا) لے کر جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہاں دارالحرب والوں کے مال کسی بھی صورت سے حاصل کرے جو طیب خاطر اور خوشدلی سے ہو۔ کیونکہ یہ ایسا مال لے رہا ہے جو مباح ہے ایسی صورت سے لے رہا ہے۔ جو دھوکہ اور فریب سے پاک ہے۔ پس یہ مال اس کے لئے حلال و طیب ہوگا۔ کوئی مسلمان دارالحرب میں اسیر کی حیثیت سے ہو یا پروانہ امن حاصل کر کے (ویزا لیکر ) گیا ہو۔ دونوں کے لئے یہی حکم ہے۔ چنانچہ اگر وہاں ایک درہم دو درہم میں فروخت کر دے یا مردار جانور کو درہموں کے بدلے فروخت کر دے (قیمت فروخت کر دے) یا قمار کی صورت میں مال حاصل
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues