Al-Risala · March 1977 · page 59

عمل کرتے ہوئے خیر امت کا مظاہرہ کرے

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۵۹

کرلے تو یہ سب صورتیں اس لئے جائزہ ہوں گی۔ (سیر کبیر بحوالہ کشف الاستار)

سیر کبیر کی مذکورہ بالا عبارت سے معلوم ہوتا ہے، دار الحرب میں جو معاملہ اہل حرب سے ہو اس کے حلال و طیب ہونے کے لئے طیب نفس یعنی خوش دلی اور رضامندہی کافی ہے۔ وہ رضامندی شرعاً معتبر ہو یا نہ ہو۔ چنانچہ سود اور قمار میں جو رضامندی ہوتی ہے۔ اگر چہ وہ شرعاً معتبر نہیں ہے۔ لیکن دار الحرب میں یہ غیر معتبر بھی معتبر ہوگی۔ اور اس رضامندی سے حاصل شدہ مال طیب قرار دیا جائے گا۔

تو سوال یہ ہے کہ شریعت نے جس کو خبیث فرمایا ہے کیا اس کی خباثت صرف دارالاسلام تک ہے۔ یا وہ خباثت اس معاملہ کی فطرت ہے۔ جہاں بھی اس معاملہ کا وجود ہوگا ۔ خباثت موجود رہے گی۔

مثلاً قمار بقول حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اس لئے حرام ہے کہ کسب واستحصال کے جو ضابطے شریعت نے مقرر کئے ہیں یہ اُن کے برعکس اور ان کے مناقض و مخالف ہے۔ مثلاً یہ کہ اُن میں ایسی محنت نہیں ہوتی جس سے قوم اور ملک کو فائدہ پہونچے حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ محنت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ چور، ڈاکو، گرہ کٹ اور بھیک مانگنے والے سب ہی محنت کرتے ہیں۔ مگر اُن کی محنت سے نہ ملک کی دولت میں اضافہ ہوتا ہے، نہ اس کی صنعت وحرفت میں، نہ تمدن ترقی کرتا ہے نہ تعمیر ملک میں فروغ ہے۔ بلکہ یہ جرائم ان مقاصد کے لئے تباہ کن ہوتے ہیں۔ اسی طرح قمار باز اور سود خوار محنت ضرور کرتے ہیں۔ مگر اُن کی محنت سے ملک کی دولت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ بلکہ اُن کی محنت ایک طرح کا ہیر پھیر ہوتی ہے۔ جس سے دوسرے کی رقم جھپٹ لی جاتی ہے۔ اور اس کی تہہ میں طمع و حرص کار فرما ہوتی ہے۔ جو قانون کی حد سے آگے بڑھ کر اخلاق اور روحانیت کے نقطہ نظر سے نہایت خطرناک مرض ہیں۔ سود کی اصل علت بھی حرص و طمع ہوتی ہے. جس میں جارحیت بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ سود خوار کمزور کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اور اس کی کمزوری میں اور اضافہ کر دیتا ہے۔ کیونکہ ضرورت مندی قرض لینے پر مجبور ہے۔ ظاہر ہے اس میں ادار قرض کی وسعت مشکل ہی سے پیدا ہوگی۔ لیکن سود خوار اس مشکل کی بنا پر رحم کرنے کے بجائے اس کی مشکل میں اضافہ کر دیتا ہے کہ سود کے مطالبہ کو دو چند اور سہ چند کر دیتا ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ باب البیوع المنہی عنہا)۔ ان افعال کی قباحتیں جس طرح دار الاسلام میں ہوتی ہیں۔ دار الحرب میں بھی قائم رہتی ہیں۔ تو جن معاملات کی تہہ میں قباحتیں موجود ہوں ان کی آمدنی کو حلال و طیب کیسے کہا جاسکتا ہے۔ قانونی نقطہ نظر سے اگر جواز پیدا ہوتا ہے۔ تو اس کو اسی حد تک محدود رہنا چاہئے اسکو حلال و طیب نہیں کہنا چاہئے۔ قمار سے حاصل کردہ رقم دار الحرب میں جائزہ ہوگی۔ کیونکہ اس کو اسلامی قانون کا تحفظ حاصل نہیں تھا اور ملکی قانون اس کو جائز قرار دیتا تھا۔ لیکن اس جائز کو طیب نہیں کہا جاسکتا۔ کیوں کہ اخلاقی قباحتیں اس کی شکلوں میں بدستور پیوست ہیں ۔

کہا جا سکتا ہے کہ حسن و قبح کا مدار شریعت کے فیصلے پر ہے۔ شریعت جس کو جائز قرار دے وہ حسن ہے اور جس کو ناجائز قرار دے وہ قبیح ہے ۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے غلبہ روم کی قرآنی پیشین گوئی کے سلسلہ میں بازی لگا دینے پر جو مال حاصل کیا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page