مشینی اصلاح کی ناکامی
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۴
رائے قائم کرنے سے پہلے تحقیق کیجئے....... قرآن میں اجتماعی زندگی کے بارے میں جو احکام دیئے گئے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے:
يا ايها الذين آمنوا اذا جاءكم فاسق بنبا فتبينوا ان تصيبوا قوماً بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين ( حجرات ۔ ٦)
اے ایمان لانے والو! اگر تمھارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لو۔ ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کے اوپر نادانی سے جاپڑو، پھر اپنے کئے پر تم کو پچھتاوا ہو یہ ایک نہایت اہم ہدایت ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خبر لانے والا ناقص خبر لاتا ہے۔ سننے والا اگر اتنے ہی سے رائے قائم کرلے تو وہ ضرور غلط فہمی میں پڑ جائے گا اور اس کی بنیاد پر کوئی اقدام کرے تو شدید امکان ہے کہ وہ ایک شخص کو بے قصور سزا دینے کا مجرم بن جائے۔ اس لئے، جو دل خدا سے ڈرتا ہو، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ سنی ہوئی باتوں کی تحقیق کرے۔ خاص طور پر وہ بات جو کسی کے خلاف ہو، اس کو تو بلا تحقیق مان لینا شدید ترین قسم کا اجتماعی گناہ ہے۔ ایسی حرکت وہی کر سکتا ہے جس کا دل خدا کے خوف سے خالی ہو۔ یا اس کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنی بڑائی کا جھوٹا احساس پیدا ہو گیا ہو، وہ سمجھنے لگا ہو کہ اگر میں نے کسی کے خلاف بے قصور کارروائی کر دی تو وہ میرا کیا بگاڑلے گا۔
یہاں چند واقعات درج کئے جاتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ایک خبر بظاہر صحیح، مگر حقیقتہً بالکل غلط ہو سکتی ہے۔
۱۔ صحیح بخاری میں عبادہ بن الصامت سے روایت ہے۔ انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکلے کہ ہم کو لیلۃ القدر کے بارے میں بتا دیں کہ وہ کب ہوتی ہے۔ اس اثنا میں دو مسلمان لڑپڑے۔ پس اس کا علم اٹھا لیا گیا (رفععت) اس سے شیعہ حضرات نے یہ استدلال کیا ہے کہ لیلۃ القدر صرف ایک بار ہوئی تھی۔ اب وہ ہمیشہ کے لئے اٹھالی گئی ہے۔ بظاہر حدیث کے لفظ "فرعت" کو دیکھتے ہوئے ان کا قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔ مگر اس کے آگے کے الفاظ اس خیال کی تردید کر دیتے ہیں کیونکہ آگے ارشاد ہوا ہے:
وعسٰی ان يكون خيرا لكم فالتمسوها فی التاسعة والسابعة والخامسة ممکن ہے اس میں تمھارے لئے بہتری ہو۔ اس لئے اس کو رمضان کی نویں شب، ساتویں شب اور پانچویں شب میں تلاش کرو یہ فقرہ بتاتا ہے کہ رفعت سے مراد یہ ہے کہ اس کی تعیین کا علم اٹھا لیا گیا نہ کہ خود لیلۃ القدر کا وجود ختم کر دیا گیا۔
۲۔ امام ابو حنیفہ ایک باغ سے گزرے وہاں کچھ عورتیں گانا گا رہی تھیں۔ ابو حنیفہ کو دیکھ کر وہ چپ ہوگئیں۔ انھوں نے فرمایا قد احسنتن (تم نے اچھا کیا) کچھ لوگوں نے جو ساتھ تھے آپ کو ملامت کی کہ آپ غنار کی تحسین کر رہے ہیں۔ یہ تو معصیت الہیٰ کے کام کی حوصلہ افزائی ہے۔
بظاہر یہ اعتراض صحیح معلوم ہوتا ہے۔ مگر جواب
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues