مشینی اصلاح کی ناکامی
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۵
دیکھیے تو بات بالکل بدلی ہوئی نظر آئے گی۔ امام ابو حنیفہ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: جب وہ گارہی تھیں تب میں نے احسنتم کہا یا جب وہ خاموش ہوگئیں تب کہا۔ لوگوں نے جواب دیا جب وہ خاموش ہو چکی تھیں تب کہا۔ آپ نے فرمایا:
اللہ اکبر، اردت احسنتم في السكوت لافی الغناء ۔ میں نے ان کے سکوت کی تحسین کی نہ کہ ان کے غنا کی ۔ ۳۔ ماہنامہ الوعی الاسلامی (کویت) کے ایک مضمون پر اعتراض کرتے ہوئے اس کے ایک قاری نے لکھا: لقد ذكر تم فی جوابکم على خطاب احد القراء في مجلة الوعی الاسلامی العدد والصادس فی اول جمادی الاولی ۱۳۸۶ ان الخلافة (الاسلامية) موضوع تاریخی لا يمكن ان يكون له صلة بحاضرنا اپنے رسالہ کے ایک قاری کے خط کا جواب دیتے ہوئے آپ نے لکھا ہے کہ خلافت (اسلامی) ایک تاریخی موضوع ہے۔ ہمارے موجودہ حالات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس کے بعد مکتوب نگار نے ایڈیٹر کو لکھا کہ یہ آپ کا جہل ہو سکتا ہے یا تجاہل۔ ورنہ یہ ایک حقیقت ہے کہ خلافت ایک حکم شرعی ہے مسلمانوں میں اس پر تو اختلاف رائے ہے کہ خلیفہ بنانے کا مستحق کون ہے۔ مگر اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ خلیفہ کا نصب واجب ہے ۔
بظاہر یہ اعتراض بہت صحیح معلوم ہوتا ہے، مگر جواب پڑھئے تو وہ بالکل بے بنیاد نظر آئے گا۔ رسالہ کے ایڈیٹر نے جواب میں لکھا کہ ہم نے جس خط کے جواب میں یہ بات لکھی تھی اس میں خلافت کا اصولی مسئلہ زیر بحث نہ تھا، بلکہ صرف یہ سوال تھا کہ دور اول میں خلافت حضرت ابوبکر کا حق تھا یا حضرت علی کا۔
فالکلام اذن صريح فى انه كان عن موضوع: من احق بالخلافة، ابو بکر ام علی- لا على موضوع الخلافة نفسها پس واضح ہے کہ یہ گفتگو اس موضوع پر تھی کہ آنحضور کی وفات کے بعد خلافت کے عہدہ کے مستحق ابو بکر تھے یا علی۔ نفس خلافت کا مسئلہ اس میں زیر بحث ہی نہ تھا۔
ایڈیٹر نے لکھا کہ اس مسئلہ پر آج بحث کرنا بے فائدہ ہے۔ جو ہونا تھا، ہو چکا۔ اب ہم کیوں اس بحث میں پڑیں۔ اب تو آج کی خلافت پر گفتگو ہونی چاہئے نہ کہ ماضی کی خلافت پر۔ (الوعی الاسلامی، کویت، اکتوبر ۱۹۶۶) کوئی شخص جتنی بلندی پر اپنے آپ کو کھڑا کرے اتنا ہی دور تک کا منظر اسے دکھائی دے گا، اسی طرح فہم قرآن کے بھی درجے ہیں۔ کسی شخص کے اوپر کتاب الہی کے وہی معانی کھلتے ہیں جن کے لئے اس نے اپنے آپ کو اہل بنایا ہو۔ حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
انزل القرآن على سبعة احرف، لكل آية منها ظهر وبطن، ولكل حد مطلع (مشکوٰة، کتاب العلم)
قرآن سات حرفوں پر اتارا گیا ہے۔ اس کی ہر آیت کا ایک اوپر ہے اور ایک اندر ہے اور ہر حد تک دیکھنے کی ایک جگہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues