Al-Risala · January 1977 · page 22

مطالعہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۲۲

یہی ہے کہ تاشقند کے میوزیم کا موجودہ نسخہ اصل عثمانی نسخہ ہے ۔ ان کے خیالات کا خلاصہ حسب ذیل ہے ۔ ۱۔ ابن قتیبہ نے مصحف عثمانی کا طوس تک پہنچنا بیان کیا ہے ۔ تاریخ سمرقند سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان کے ایک عزیز جن کا نام سعید تھا اس نسخہ کو ٥٥ھ میں سمرقند لے آئے ۔

۲۔ ابن بطوطہ کا بیان ہے کہ انھوں نے بصرہ میں مصحف عثمانی کو دیکھا تھا ، قیاس ہے کہ تیمور نے اس کے بعد جب بصرہ پر قبضہ کیا تو وہ اس نسخہ کو سمرقند لے آیا ، اس کے بعد سے یہ نسخہ مسلسل سمرقند میں رہا۔ پھر ۱۹۱۷ء کے اشتراکی انقلاب کے بعد تاشقند منتقل ہوا : ان هذا المصحف الموجود عندنا هو احد المصاحف العثمانية التي بعث بها الى الامصار ان لم نقل انه نفس المصحف الامام اذ دعوى ذلك يحتاج الى نصوص صريحة (صفحه ۴۰ )

" یہ مصحف جو آج ہمارے پاس ہے ، اگر یہ وہی مصحف نہ ہو جو حضرت عثمان کے زیر تلاوت تھا تو کم از کم وہ ان مصاحف میں سے ایک ضرور ہے جو آپ نے تیار کرا کر مختلف شہروں کو روانہ فرمایا تھا۔ کیونکہ اس کو حضرت عثمان کا ذاتی مصحف قرار دینے کے لئے ہمارے پاس صریح دلائل موجود نہیں ہیں ۔ "

اس مصحف میں کل ۷۰۶ صفحات تھے ۔ اب صرف ۵۵۲ صفحات باقی رہ گئے ہیں ۔ بقیہ کو لوگ تبرک کے ہر قسم کی کتابیں قرآن، درسیات اور دوسرے تمام موضوعات پر کسی بھی ادارہ کی چھپی ہوئی اردو، ہندی ، انگریزی اور دوسری زبانوں میں ہم سے طلب کیجئے رسالہ بک ڈپو طور پر نکال لے گئے۔ (۲۹) اگر انھیں معلوم ہوتا کہ یہ تبرک نہیں بلکہ اسلام کی تاریخی دستاویز ہے تو وہ ہرگز ایسا نہ کرتے ۔ مذہب کے غلط تصور نے مذہب کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے ۔

اتمالی ۱۱۰۰۰۶ دہلی

‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues

Printed page