Al-Risala · January 1977 · page 21

مطالعہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۲۱

کے خلاف پڑھنے والوں کی تکفیر کرنے لگے تھے۔ حضرت عثمان کے یہ نسخے چونکہ ام المصاحف کی حیثیت رکھتے تھے، لوگوں نے انتہائی اہتمام کے ساتھ ان کی حفاظت کی۔ بعد کو وہ خلفاء اور سلاطین کے خزانوں میں قیمتی تبرک کی حیثیت سے رکھے گئے۔ پھر سیاسی انقلابات اور حکومتوں کی تبدیلی کے نتیجہ میں وہ ادھر سے اُدھر ہوتے ر۔ قاہرہ کے مجلہ " الدنیا وکل شیء" نے اپنی اشاعت ۲۴ اگست ۱۹۳۸ء میں لکھا تھا: مصحف عثمانی کا ایک نسخہ ترکی فوجیں مدی سے ترکی لے گئیں۔ وہاں سے وہ جرمن شہنشاہ غلیوم ثانی تک پہنچا، اور ایک معاہدہ کے مطابق یہ نسخہ دوبارہ واپس ہو کر حکومتِ حجاز کو مل گیا۔ ابن جبیر نے لکھا ہے کہ وہ اپنی سیاحت کے دوران ۵۸۰ھ میں مدینہ پہنچے تو وہاں مسجد نبوی میں عثمانی مصحف موجود تھا۔ بعض معاصر محققین نے لکھا ہے کہ مدینہ میں مصحف عثمانی ؁۱۳۳۴ھ تک موجود تھا۔ اس کے بعد ترک اسے آستانہ لے گئے ۔ (۴) قرآن کا وہ نسخہ جو حضرت عثمان نے اپنے لئے خاص کیا تھا، بعض روایتوں کے مطابق وہ آپ کے بعد آپ کے خاندان میں محفوظ رہا۔ پھر بنی امیہ کے ساتھ وہ اندلس پہنچا۔ اندلس میں جب حکومتِ اسلامی ختم ہوئی تو وہ فاس منتقل ہو گیا۔ ابن بطوطہ کے بیان کے مطابق آٹھویں صدی ہجری میں وہ فاس میں موجود تھا اور اس پر خون کا نشان تھا۔ بعض دوسرے لوگ اس بیان کی ؀ تاریخ المصحف العثمانی في طشقند (عربی) تالیف: الشیخ اسماعیل مخدوم الادارة الدينية في المطبعة الحكومية ، طشقند ۱۹۷۱ء، صفحات ۵۲ صحت پر شک کرتے ہیں۔ ابن کثیر نے فضائل القرآن (صفحہ ۴۹) میں لکھا ہے کہ مصحف عثمانی کا ایک نسخہ میں نے دمشق میں دیکھا ہے۔ یہ نہایت عمدہ لکھا ہوا تھا۔ تاشقند کا موجودہ نسخہ تیمور کے زمانے سے سمرقند میں تھا۔ ۱۸۶۸ء میں جب روس کا غلبہ سمرقند میں ہوا تو زار کے حکم کے تحت وہ پیٹرس برگ کے میوزیم میں منتقل کر دیا گیا۔ ۱۹۱۷ء کے اشتراکی انقلاب کے بعد مسلمانوں نے لینن سے اس کی واپسی کی درخواست کی، چنانچہ لینن کے حکم کے تحت واپس ہو کر وہ تاشقند پہنچا۔ حضرت عثمان کے مصحف خاص کے محفوظ رہنے میں جو لوگ شک کرتے ہیں۔ ان کے شک کی بنیاد متعدد امور پر ہے۔ برزنجی نے اپنی کتاب نزهة الناظرین میں لکھا ہے کہ اس وقت چار نسخے موجود ہیں (مکہ، مدینہ، قاہرہ اور پیٹر و گراڈ میں) اور چاروں کے بارے میں مصحف عثمانی نہ ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، حیرت انگیز بات ہے کہ چاروں نسخوں میں آیت قرآنی فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللہ پر سرخ نشان ہے۔ حالانکہ اس قسم کا نشان کسی ایک ہی نسخہ پر ہو سکتا ہے۔ زیر نظر کتاب کے مصنف کا خیال ہے کہ بعد کو لوگوں نے اپنے نسخوں پر بطور تبرک مندرجہ بالا آیت پر سرخ نشان لگا لیا ہے اسی طرح بعض روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مصحف عثمانی میں آیت ولات حِينَ مناص (ص- (۳) کو ولا تحین لکھا گیا تھا جبکہ موجودہ تینوں مصاحف میں ولات حين لکھا ہوا ہے وغیرہ ۔

مصنف کی یہ کوشش قابل داد ہے کہ انھوں نے نہایت محنت سے دونوں قسم کے دلائل اور روایتیں جمع کردی ہیں۔ تاہم آخر میں انھوں نے جو نتیجہ نکالا ہے وہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues

Printed page