Al-Risala · April 1977 · page 43

توقیر احمد ایم اے

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۴۳

کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ اب کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ مولانا وحید الدین خاں جیسے جید عالم کا بھی یہ خیال .... ہے۔ بے شک خیال کی حد تک ہر شخص آزاد ہے۔ مگر اس GENERALISATIONS کے بعض زبردست غلط فہمیوں کا موجب ہوتے ہیں۔

توقیر احمد ایم اے

۳۳ - اے ، بٹلہ ہاؤس ، جامعہ نگر، نئی دہلی ۔ ۲۵ جواب : تاریخی جنرلائزیشن کے بارہ میں آپ کا ارشاد بجا ہے ۔ مگر مشکل یہ ہے کہ تاریخ میں اس قسم کے جنرلا ئزیشن سے بچنا ممکن نہیں۔ تاریخ کے کسی واقعہ پر یا مجموعہ واقعات پر جب بھی آپ کوئی حکم لگائیں یا اس کو کوئی تعبیر دینے کی کوشش کریں گے تو لازما آپ اسی مقام پر ہوں گے جہاں آپ نے الرسالہ کے مضمون نگار کو کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے نہ آپ مستثنیٰ ہو سکتے ہیں نہ کوئی دوسرا مورخ۔

مثال کے طور پر مطبوعہ مضمون کے بعض حصوں کو لے کر آپ نے جو اعتراضات کئے ہیں ، وہ بھی جنر لائزیشن ہی کی صورتیں ہیں۔ آپ کا یہ کہنا کہ فلاں پیرا گراف سے یہ یہ مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ، یا فلاں عبارت سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ عمر فاروق سیاسی مصلحت کا شکار ہو گئے تھے ، یہ سب بھی جنر لائزیشن ہی کی صورتیں ہیں۔ تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے آپ اس سے بے خبر نہیں ہو سکتے کہ تاریخ میں اُس قسم کی یکسانی رائے ممکن نہیں جو فزکس اور کیمسٹری میں ہوا کرتی ہے۔ تاریخ کو ایک تعبیر دینے والا شخص جس نازک مقام پر ہوتا ہے ، ٹھیک اسی مقام پر وہ دوسرا شخص بھی ہوتا ہے جو اس کی تعبیر کو چیلنج کر رہا ہو۔ اس لئے تاریخ میں یہ کہنا بے معنی ہے کہ جنرلائزیشن مت کرو، آپ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ اپنے دلائل و شواہد کے ساتھ کسی دوسرے جنرلائزیشن کو پیش کریں جو آپ کے نزدیک واقعات کی زیادہ صحیح تعبیر ہو۔ ”تاریخ کے کچھ HARD FACTS پر کوئی نظریہ قائم کرتے وقت اس کو TENTATIVE ہی سمجھنا چاہئے۔ “ آپ کے اس ارشاد سے مجھے اتفاق ہے، صرف اس اضافہ کے ساتھ کہ تاریخ کے بارہ میں ہر نظریہ ہمیشہ ہی ہوتا ہے، کوئی بھی ایسا نظریہ نہیں ، TENTATIVE نہ صرف ماضی بلکہ حال کے بارہ میں بھی نہیں، جس کو مطلق صداقت کہا جا سکے ۔ اگر کوئی شخص اس قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہو تو اس کے بارہ میں یہی کہا جائے گا کہ وہ انسانی علم کی حدود کو جانتا اور نہ تاریخ کے موضوع کی نزاکتوں کو۔ تاریخ میں یہ بات ایک مسلمہ حقیقت کی حیثیت رکھتی ہے ، اس لئے آپ کو یہ اصرار نہیں کرنا چاہئے کہ کوئی شخص جب تاریخ کے بارہ میں اپنا حاصل مطالعہ پیش کرے تو آخر میں یہ جملہ بھی لکھ دے : قارئین اس کو محض TENTATIVE سمجھ کر میرے خیالات کا مطالعہ کریں۔

خدا سے ڈر کی پہچان یہ ہے کہ آدمی انسان سے ڈرنے لگے ۔ اس معنی میں نہیں کہ جو زور آور ہو یا جس سے کوئی مفاد وابستہ ہو، اس سے آپ ڈریں ۔ یہ تو دنیا پرستی بلکہ شرک ہے۔ انسان سے ڈرنے کا مطلب صاحب حقوق سے ڈرنا ہے۔

یہ سمجھ کر لوگوں سے معاملہ کرنا کہ ہر آدمی کے پیچھے اس کا خدا کھڑا ہوا ہے اور وہ ہمیشہ اس کا ساتھ دیتا ہے جس کی حق تلفی کی جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page