فمن حضره فلا يأخذ منه شيئاً
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۴۲
پاس جانے والے ہیں اور وہاں ان کا رب ان کے اعمال کا حساب لے گا۔
سے محروم ہو چکے تھے ۔ اس وقت بیابان میں من وسلویٰ اتار کر خدا نے ان کی اقتصادی محرومی کی تلافی کر دی ۔ مسلمان جدید دور میں اقتصادی حیثیت سے اپنے مشن کو اعلیٰ معیار پر انجام دینے کے قابل نہ ر تھے۔ خدا نے ان کو صنعتی دور کا خزانہ دے کر ان کا یہ عذر ختم کر دیا۔ یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ٹھیک ویسا ہی ایک معاملہ ہے جو بنی اسرائیل کے ساتھ چار ہزار برس پہلے پیش آیا تھا۔ بنی اسرائیل جب مصر کے زرخیز علاقے سے نکل کر صحرائے سینا میں پہنچے تو وہ تمام اقتصادی ذرائع یہ نصرت الہی کی غیر معمولی صورتیں ہیں۔ اس کے بعد بھی جو قوم اپنی دینی ذمہ داریوں کو ادا نہ کرے، وہ خدا کی نظر میں اتنی بڑی مجرم ہو جاتی ہے جس کے بعد کوئی بھی عذر سنا نہیں جاتا۔ حامل کتاب قوم کے لئے مواقع کار کی فراہمی اللہ نے اپنے ذمہ لے لی ہے، مگر اس کے بعد کا کام تو بہر حال خود ہم کو انجام دینا پڑے گا۔ مواقع کار جتنے زیادہ ہوں، ذمہ بھی اتنی ہی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
سوال و جواب
’’میں الرسالہ کو باقاعدہ خرید کر پڑھ رہا ہوں۔ مجھے آپ کی بہت سی باتوں سے مکمل اتفاق ہے۔ ان کی تفصیل میں بالکل نہیں جاؤں گا۔ میں آپ کی توجہ الرسالہ جنوری ۱۹۷۷ء میں ”ایک خاندانی جھگڑا جو پوری تاریخ پر چھا گیا‘‘ کے عنوان سے جو مضمون چھپا ہے اس کے چند اقتباسات کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ ‘‘ حقیقت یہ ہے کہ اگر خلافت راشدہ کے آخر میں آپس کی لڑائیاں شروع نہ ہو گئی ہوتیں تو طاقت و قوت کا بے پناہ سیلاب جو عرب سے اٹھا تھا ایشیا، افریقہ اور یورپ کے تمام علاقوں کو توحید کا علاقہ بنا دیتا، بلاشبہ ان لڑائیوں سے تحریک اسلامی کو زبردست نقصان پہنچا۔ مگر اس قسم کی تحریر سے اگر کوئی بھی شخص یہ سمجھے کہ اسلام تلوار کے ذریعہ پھیلا تو کیا وہ غلط ہوگا؟ ‘‘ ’’حضرت عمرؓ اپنے بعد علیؓ بن ابی طالب کو موزوں ترین شخص سمجھتے تھے۔ مگر اسی اندیشہ کی بنا پر وہ آنجناب کو نامزد نہ کرسکے۔ ‘‘ اس طرح کے اندیشہ کا ٹھوس ثبوت کیا ہے؟ سوال یہ بالکل نہیں ہے کہ خلافت کے لئے موزوں ترین شخص حضرت علیؓ تھے یا عثمانؓ سوال یہ ہے کہ حضرت عمرؓ جیسے محتاط اور زبردست قوتِ ارادی والے شخص جس نے حضرت خالد بن ولید کو سپہ سالاری سے صرف اس لئے معزول کر دیا تھا کہ مسلمان یہ نہ سمجھنے لگیں کہ فتح خالدؓ کی وجہ سے ہو رہی ہے) سے یہ توقع ہرگز نہیں کی جاسکتی کہ وہ محض ایک سیاسی مصلحت کی بنا پر تحریک اسلامی کو ایک موزوں ترین شخص کی لیڈرشپ سے محروم کر دیتے ۔
مذکورہ مضمون سے اس طرح کے چند اور اقتباسات نقل کرنے کے بعد اچھے تاریخ دان اس طرح کے COMMENTS کو پسند نہیں کرتے۔ میں خود بھی تاریخ کا طالب علم ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ HISTORICAL GENERALISATIONS میں ایسی غلطیاں بہت عام ہیں۔ اسی لئے کہا گیا ہے تاریخ کے چند HARD FACTS پر کوئی بھی نظریہ قائم کرتے وقت اسے TENTATIVE ہی سمجھنا چاہئے اور بہت ہی احتیاط
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues