Al-Risala · April 1977 · page 37

توقیر احمد ایم اے

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۳۷

کے ساتھ مرو) الفاظ بدل کر اس دور کے تمام سیاسی لیڈروں کا نعرہ بےی تھا۔ کروڑوں لوگوں نے اجنبی اقتدار سے رہائی حاصل کرنے کے نام پر اپنی جانیں دے دیں اور کھربوں روپے کے نقصانات کو برداشت کیا۔ آج یہ جدوجہد اپنے مقررہ نشانہ کے مطابق تقریباً تمام ملکوں میں کامیاب ہو چکی ہے۔ اگر چہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جس چیز نے مغربی استعمار سے آزادی کی جدوجہد کو کامیاب بنایا وہ بڑی حد تک خود مستعمرین کی باہمی لڑائیاں تھیں، جزوی طور پر جنگ عظیم اول (۱۹۱۸-۱۹۱۴) اور زیادہ بڑے پیمانے پر جنگ عظیم ثانی (۱۹۴۵-۱۹۳۹)

تاہم آزادی کی تحریکوں کی کامیابی ان امیدوں کو پورا نہ کرسکی جن کے لئے الجزائر میں ۲۵ لاکھ اور ہندوستان میں دو لاکھ مجاہدین نے اپنے کو قربان کر دیا تھا۔ مسلم قوموں پر مغربی قوموں کا غلبہ آج بھی بدستور باقی ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ پہلے یہ غلبہ فوجی اور سیاسی معنوں میں تھا، اب اس نے اقتصادی اور صنعتی روپ اختیار کر لیا ہے۔ یہ دوسرا غلبہ اتنا شدید ہے کہ مسلم ملکوں کی سیاسی پالیسیاں بھی حقیقی معنوں میں آزاد پالیسیاں نہیں ہٹیں وہ عملاً انہیں مغربی قوموں کے ہاتھ میں ہیں جن سے ہتھیار خرید کر وہ اپنا دفاع کرتے ہیں، جن کی تکنیکی امداد سے وہ اپنے تمدنی شعبوں کو چلا رہے ہیں۔ ان کے اثرات اب بھی اتنے گہرے ہیں کہ وہ جب چاہیں احمد و بلو (۱۹۶۶) یا شاہ فیصل (۱۹۷۵) کو قتل کرا دیں۔ اردن (۱۹۷۱ء) اور شام (۱۹۶۶ء) کے ہاتھوں فلسطینی تحریک کو کچل ڈالیں۔ ایران کے عوامی انقلاب (۱۹۵۱) کو ناکام بنا دیں۔ مصر کو اپنے اس دشمن سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کر دیں جس کے بارے میں جمال عبد الناصر (۱۹۶۰ - ۱۹۱۸) نے فخریہ کہا تھا : نحن ابناء الفراعنة سنريكُم فى البحر هم فرعونوں کی اولاد ہیں، تم کو سمندر میں پھینک دیں گے) وغیرہ۔ ۲- تحفظ کی تحریکوں نے عام طور پر تعلیم دین کا رخ اختیار کیا، مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴-۱۸۵۷) نے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو میں اپنی تقریر میں کہا تھا : ’’دوسری قوموں کی ترقی یہ ہے کہ وہ آگے بڑھیں، آگے بڑھیں ،ہماری ترقی یہ ہے کہ ہم پیچھے نہیں پیچھے ہیں۔ یہاں تک کہ دور نبوت سے جاملیں اس ذہن کے تحت تمام ملکوں میں یہ شمار مدارس قائم کئے گئے۔ ان مدارس کا مقصد یہ تھا کہ مسلم نسلوں کو عربی زبان اور اسلامی علوم کی تعلیم دی جائے اور ان کو کم از کم ذہنی حیثیت سے دور نبوت تک پہنچا دیا جائے۔ توقع یہ تھی کہ جو لوگ ان مدارس میں تربیت پا کر نکلیں گے، وہ زمانہ کے اثرات سے اپنے کو بچانے کے لائق بن سکیں گے۔

یہ تحریک ان معنوں میں پوری طرح کامیاب رہی کہ اس نے ساری مسلم دنیا میں دینی مدرسوں کا جال بچھا دیا اور کوئی بستی ایسی نہ رہی جو ان درس گاہوں میں تعلیم پائے ہوئے علماء و فضلاء سے خالی ہو۔ مگر جہاں تک اسلامی ذہن اور اسلامی طرز فکر کا سوال ہے، ان مدارس کی کامیابی حد درجہ مشکوک ہے۔ ان مدارس سے فراغت کے بعد جن خوش نصیبوں کو خود ان مدارس یا ان سے ملتے جلتے کسی ادارہ میں جگہ مل گئی ، انھوں نے بلاشبہ مدرسہ کے دیئے ہوئے ظاہری لبادہ کو باقی رکھا کیونکہ ان اداروں میں قیام و ترقی کے لئے یہی لبادہ ان کی قیمت تھی۔ مگر جن لوگوں کے حالات انہیں ان اداروں سے باہر لے گئے۔ وہ کسی بھی معنی میں غیر دینی مدارس کے فارغین سے مختلف ثابت نہ ہو سکے۔ کیر سیرزم ان کا دین بھی رہا اور ان کا بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page