توقیر احمد ایم اے
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۳۸
اس کی دو بڑی وجہیں ہیں ۔ اول یہ کہ دینی تعلیم کے رہنما اس واقعہ کا پوری طرح اندازہ نہ کرسکے کہ اسلامی تعلیم کا مسئلہ ، مروجہ زمانہ میں ، صرف اسلامی زبان یا اسلامی احکام سے واقف کرانے کا مسئلہ نہیں ہے ۔ بلکہ نظام حاضر کے فکر میں اسلام کو اس کی جگہ دلانے کا مسئلہ ہے ۔ انھوں نے اپنے اداروں میں جو نسل تیار کی ، وہ اگر چہ اسلام کے روایتی علوم کی ماہر تھی ، مگر اسلام اس کے حقیقی ذہن کا جز و نہیں بنا تھا ۔ کیونکہ وہ اس کو اس فکری مستوی کے مطابق دکھائی نہیں دیتا تھا جس کے اندر وہ عملاً سانس لے رہا تھا ۔ جو اسلام اسے دیا گیا وہ اس کے لئے ایک قسم کا معلوماتی ضمیمہ تھا نہ کہ فکری غذا ۔ ظاہر ہے کہ عالمی افکار کے سیلاب میں کوئی شخص اس قسم کے ذہنی ضمیمہ کو دیر تک باقی نہیں رکھ سکتا۔ دوسرے یہ کہ جدید تبدیلیوں نے موجودہہ دینی تعلیم کا رشتہ اقتصادیات سے کاٹ دیا تھا۔ اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کوئی تعلیمی نظام جو اقتصادی بنیادوں سے محروم ہو ، زندگی کے نظام میں مؤثر مقام حاصل نہیں کرسکتا ۔
۳ - 3۔ احیاء کی تحریکوں سے میری مراد وہ تحریکیں ہیں جو اسلامی نظام کے قیام کا مقصد لے کر اٹھیں ۔ انڈونیشیا کی ماشومی پارٹی، مصر کی الاخوان المسلمون ، پاکستان کی جماعت اسلامی اس کی مثالیں ہیں ۔ ان تحریکوں کا کہنا تھا کہ موجود زمانہ میں مسلمانوں کو جتنے مسائل پیش آرہے ہیں ، وہ صرف اس لئے ہیں کہ اسلامی قانون کی حکومت زمین پرقائم نہیں ہے ۔ اگر مسلم ملکوں میں اسلامی قانون کی بنیاد پر معاشرہ کی تنظیم کر دی جائے تو نہ صرف ہمارے تمام اندرونی مسائل حل ہو جائیں گے بلکہ عالمی سطح پر مسلمان دوبارہ وہی مقام حاصل کر لیں گے جو ماضی میں ایک ہزار برس تک انھیں حاصل تھا ۔
ان تحریکوں نے اسلام کی تعلیمات کو جس طرح سیاسی اصطلاحوں میں بیان کیا وہ ، خاص طور پر موجودہ صدی کے نصف اول کے ماحول میں ، بہت سے مسلمانوں کو اسلام کے حق میں وقت کا بہترین قصیدہ معلوم ہوا ۔ وہ سیاسی شاعرہ کے اس اسلامی پنڈال میں آسانی سے جمع ہو گئے ۔ تاہم یہ مشاعرہ دیر تک باقی نہ رہ سکا ۔ ان تحریکوں کا ذہن چوں کہ اسلام کی سیاسی تشریح سے بنا تھا ، قدرتی طور پر ایسا ہوا کہ وہ بہت جلد اپنے ملکوں کی غیر اسلامی حکومتوں سے ٹکرا گئیں ۔ یہ ٹکراؤ ہر ایک کے حق میں چھری اور خربوزے کا ٹکراؤ ثابت ہوا۔ مصر کے انور السادات نے اقتدار پر قبضہ کے بعد ( ۱۹۷۱ء) اپنے سیاسی حریفوں کو انتباہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو میری مخالفت کرے گا ، میں اس کو قیمہ بنا دوں گا ( حافز مہ) مسلم حکمرانوں کے یہ ارادے سب سے زیادہ جن کے حق میں صحیح ثابت ہوئے ہیں ، وہ یہی اسلامی نظام کی علم بردار جماعتیں ہیں۔ انھوں نے ہر ملک میں ان جماعتوں کو قیمہ بنا کر رکھ دیا ہے ، اب کسی بھی ملک میں ان کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ۔
اسلام کا نظام کی علم بردار جماعتوں کی یہ ناکامی محض ان کے سیاسی حریفوں کی شقاوت کا نتیجہ نہیں ہے ۔ اس میں خود ان کے رہنماؤں کا یہ انتہائی غلط اندازہ شامل ہے کہ انھوں نے سمجھا کہ وہ مقامی مسلمانوں کے ووٹ سے اسلامی حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ وہ اس تاریخی حقیقت کو بھول گئے کہ حکومتیں ہمیشہ وقت کے غالب افکار
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues