"اصلاحی مشین" صرف ان انسانوں
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۴۲
کوئی ناممکن کوپسندیدہ جذبہ ابھرے اور فوراً مشين کو عمل میں لاکر اس کو ٹھنڈا کر دیا جائے۔ اگر پہلی صورت ہو تو وہ نا ممکن ہے ایک ایسی دنیا جہاں ہر روز بے شمار لوگ پیدا ہوں اور بے شمار لوگ مرجاتے ہوں، آخر کس طرح اس کو ممکن بنایا جائے گا کہ ساری انسانی آبادی کی مسلسل تطہیر ہوتی رہے۔ انسانیت کے موجودہ تمام وسائل بھی اس کو مسلسل جاری رکھنے کے لئے نا کافی ہیں اور اگر صرف کچھ " ناپسندیدہ لوگوں کو اس مشين کا معمول بننے کے لیے چنا جائے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ نیا علم ان لوگوں کے ہاتھوں غلط استعمال کا شکار نہ ہوگا جو اس کام کے ذمہ دار بنائے جائیں گے ایک مصنف اس ایجاد کے نتائج پر شک کرتے ہوئے لکھتا ہے: KNOWLEDGE AND MORAL RESPONSIBILITY ARE NOT NECESSARILY. INTERLINKED یعنی علم اور اخلاقی ذمہ داری لازمی طور پر ایک دوسرے سے بندھے نہیں ہوتے ہیں۔ اگر علم اور اخلاقی ذمہ داری لازم وملزوم ہوتے تو ایٹمی توانائی کی دریافت ایٹم بم کی صورت اختیار نہ کرتی۔ اگر اس دریافت کے معنی یہ ہوں کہ وقتی مواقع پر انھیں استعمال کیا جائے یعنی جب کسی انسان کے اندر کوئی ناپسندیدہ جذبہ ابھرے اس وقت مشین اس کے دماغ سے لگا دی جائے تو یہ اور بھی زیادہ ناقابل فہم ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈاکٹر ڈیلیگاڈو کو موجودہ تین ارب نسل انسانی کے لیے مزید تین ارب انسان پیدا کرنے ہوں گے کیونکہ یہ کسی ایک کا نہیں بلکہ سارے ہی انسانوں کا مسئلہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی کے ساتھ ایک اور آدمی موقع کے انتظار میں اس کے ساتھ لگا رہے۔ تا ہم اس نا ممکن بنا دینے کے بعد بھی اصل مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
"اصلاحی مشین" صرف ان انسانوں
پر اپنا عمل دہرا سکتی ہے جو مقید چینپینزی کی طرح اس کے بس میں ہوں اپنے سیاسی آقاؤں کو پھر بھی وہ اپنا معمول نہیں بنا سکتی ۔
کیونکہ ڈاکٹر ڈیلیگاڈو کی مشینی پہرہ دار صرف ان انسانوں پر اپنا عمل دہرا سکے گا جو محبوس چمپینزی کی طرح اس کے بس میں ہوں ۔ ہٹلر اور اسٹالن جیسے انسانوں کو پھر بھی وہ اپنی مشین کا معمول نہیں بنا سکتا۔
آخری بات یہ ہے کہ انسان کے اندر فطرت نے جو صلاحیتیں رکھی ہیں، ان میں سے کوئی بھی بذات خود غلط نہیں ہے ۔ صرف اس کا بے موقع استعمال اسے غلط کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر غصّہ اور جارحیت بذات خود کوئی مستقل صفت نہیں ہیں۔ یہ دراصل اس صفت کا ایک بے جا ظہور ہے ۔ جو زیادہ بہتر طور پر شجاعت اور مردانگی کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے ۔ اگر بالفرض انسان کی ذہنی صلاحیتوں میں تبدیلی لانا ممکن ہو، جب بھی یہ فطرت کے توازن کو بدلنے کی قیمت پر ہوگا ۔ آپ انسان کے اندر سے غصّہ کا مادہ نکال دیں تو آپ صرف غصّہ ہی کو اس کے اندر سے نہیں نکالیں گے بلکہ اسی کے ساتھ یقین، جوش، حوصلہ، عزم، اقدام، اصول پر جمنے کی خصوصیات کو بھی اس کے اندر سے کمزور کر دیں گے اس قسم کا مصنوعی انسان کسی کارخانے میں مشین کا ہینڈل گھمانے کا فرض شاید انجام دے سکے۔ مگر وہ زندگی کے پرشور معرکہ میں کوئی کارنامہ دکھانے کے قابل نہیں ہو سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues