Al-Risala · April 1977 · page 41

توقیر احمد ایم اے

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۴۱

اخبار نیو یارک (۳ مارچ ۱۹۵۱ میں ایک دلچسپ رپورٹ شائع ہوئی تھی ۔ اس کے ایڈیٹر نے اطلاع دی تھی کہ اس کو بذریعہ ڈاک ایک مشین وصول ہوئی جس کے نام اس کے موجد نے READING EASE CALCULATOR رکھا ہے ۔ اس مشین کی خاصیت یہ تھی کہ اس کے کسی رکن (JOSE M.R. DELGADO) کے ڈاکٹر جوزڈ ملیگانڈو نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے انسان کی مشینی تطہیر (MECHANICAL PURGING) کا ایک نیا طریقہ دریافت کر لیا ہے جس کو وہ ای۔ ایس۔بی۔ یعنی دماغ کی برقیاتی تحریک (ELECTRICAL STIMULATING OF BRAIN) ۔ اس مشین کی خاصیت یہ تھی کہ اس کو کسی بھی رکھ لیتی ہے ۔ تحریری مواد پر استعمال کرکے اس تحریر کی کیفیت معلوم کی جاسکتی تھی۔ مشین کے موجد نے داخلی قدر و قیمت کے تمام پہلو حذف کر دیئے تھے ۔ قیاسڑ بڑے بڑے مشاہرہ کے لٹریری ایڈیٹروں کی ضرورت کو بھی ختم سمجھ لیا گیا تھا۔ وہ سب کچھ جو اس مشین کو عمل میں لانے کے لیے کرنا تھا، وہ یہ کہ مخصوص ہدایات کے مطابق ایک چھوٹے سے ڈائل کو سیٹ کیا جائے۔ پھر ایک انڈیکیٹر کو خاص طریقے سے گھمایا جائے اور اس کے بعد مشین کے فیصلے کو پڑھا جائے جو چار میں سے کسی ایک شکل میں سامنے آتا تھا۔ بہت سخت، سخت، آسان اور بہت آسان ۔ ہدایات کا کتا بچہ بتاتا تھا کہ اس کی بنیاد مواد کی خوبیوں پر تھی یعنی سب سے آسان کا مطلب تھا سب سے عمدہ اور سب سے سخت کا مطلب سب سے خراب۔ نیو یارک کے ایڈیٹر نے لکھا تھا کہ اس مشین کا سب سے پہلا استعمال اس نے اسی کتابچہ پر کیا جو مشین کے ساتھ مشین کے تعارف اور ترکیب استعمال کے لیے آیا تھا۔ مشین نے بتایا بہت سخت اور کم سے کم اس معاملے میں اس نے مشین کے فیصلے کو قبول کر لیا۔

اس مثال سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کا یہ رجحان کہ ہر چیز کو مکینکل بنایا جائے کس قدر بے معنی ہے۔ انسان کو مشین فرض کرنے کے نتیجہ میں آج کا اہلِ علم کیسی کیسی نادانیاں کر رہے ہیں، اس کی ایک تازہ مثال یہ ہے کہ ایل یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن (نیویارک) کا نام دیتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ اس طریقہ کو استعمال کر کے ایک زیادہ پر امن سماج بنایا جا سکتا ہے۔

ان کے اس یقین کی بنیاد ان کی وہ کامیابی ہے جو انھوں نے کمپیوٹر کے ذریعہ چھینپزی کے دماغ سے غیر حسیاتی ربط (NON-SENSORY CONNECTION) قائم کرنے میں حاصل کی ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ذی حیات کا دماغ جو اب تک صرف اس کے اپنے حواس سے مربوط سمجھا جاتا تھا اب خارج میں پیدا کردہ ریڈیائی لہروں کے ذریعہ بھی اس سے ربط قائم کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر ڈیلیگاڈو نے ایک چھینپزی کے دماغ کے جارحانہ مرکز سے ربط پیدا کیا اور اس کو اس حد تک متاثر کیا کہ اس کی جارحانہ طنیت جاتی رہی ۔ ان کے اس طریقہ کو "غیر حسیاتی تحریک بذریعہ کمپیوٹر" کا نام دیا گیا ہے ۔ بمبئی کے ایک اخبار " بھارت جوتی" ۱۸ ستمبر ۱۹۶۹ ء نے اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ تجربہ اپنے اندر بہت غیر معمولی متضمنات رکھتا ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ انسانی دماغ میں برقی تحریک پیدا کر کے بہتر انسان (BETTER MAN) اور بہتر سماج کی تخلیق کی جاسکتی ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر ڈ مِلگا ڈو کی دریافت کو انسان پر استعمال کرنے کی صورت کیا ہوگی ۔ کیا انسان کے "نا پسندیدہ جذبات " کو دائمی طور پر ختم کر دیا جائیگا۔ یا ہر آدمی کے ساتھ ایک اور آدمی لگا دیا جائے گا جو ڈاکٹر ڈیلگاڈو کی مشین لیے ہوئے ہر وقت منتظر رہے گا کہ کب اس کے اندر

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page