Al-Risala · April 1977 · page 44

"اصلاحی مشین" صرف ان انسانوں

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۴۴

بادشاہوں کی مجلسیں علماءءءءءءء کی فقہی اور کلامی بحثوں سے معمور رہتی تھیں، جبکہ ٹھیک اسی وقت اسلام کی دعوت و اشاعت کا میدان سونا پڑا ہوا تھا مسلمان بادشاہوں کی بدولت ہندوستان میں علماء اور صوفیا کو قدم جمانے اور اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کا موقع ملا، - ہر دور میں بکثرت علماء پیدا ہوتے رہے، سلاطین دہلی کے ابتدائی دور میں علماء زیادہ تر نیشا پور، صغان غزنین، کاشان، بلخ، سجستان، خوارزم اور تبریز سے آئے، جیسا کہ ان کے ناموں سے ظاہر ہے، اور یہ اپنے ساتھ حنفی فقہ لائے، حجاز سے آنے والے علما کی تعداد کم رہی، اس لیے ہندوستانی فقہ میں عراقی اور ترکستانی اثرات زیادہ غالب رہے، اور یہی فقہ ہندوستان میں رائج رہی، جس کی باضابطہ تدوین فتاویٰ تاتار خانی اور فتاویٰ عالمگیری میں ہوئی ۔

سلاطین دہلی کی حکومت میں سب سے زیادہ علما علاؤ الدین خلجی کے دور میں تھے ان کا اتنا شاندار اجتماع ہو گیا تھا کہ ضیاء الدین برنی نے لکھا ہے کہ اس وقت کی اسلامی دنیا یعنی بخارا، سمرقند، مصر، خوارزم، دمشق، تبریز، صفاہان، رے اور روم میں یہاں کے جیسے علما نہیں پائے جاتے تھے جملہ علوم میں کامل دستگاہ رکھنے والے علما یہاں موجود تھے، مولانا ضیاء الدین برنی ان پر فخر کرتے ہوئے یہاں تک لکھ گئے ہیں کہ بعض علما تو امام غزالی اور امام رازی کے ٹکر کے تھے، اور فقہ کے بعض ماہرین کو امام ابو یوسف اور امام محمد کا مرتبہ حاصل تھا، خود امیر خسرو کو دہلی پر فخر تھا، انھوں نے اس کو قبلہ اسلام کہہ کر یاد کیا ہے، محمد تغلق کے زمانے میں علما کی تعداد اور بھی بڑھ گئی تھی، قلقشندی کا بیان ہے کہ دو سو فقہا سلطان کے دستر خوان پر موجود ہوتے تھے اور وہ ان زندگی ایک بازار ہے ۔ یہاں کوئی چیز اسی وقت ایک تحض کو ملتی ہے جب کہ اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے اس کی جیب میں پیسے موجود ہوں ۔ آپ کسی سے کچھ لینا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے یہ جانئے کہ آپ اس کو کیا چیز دے سکتے ہیں آپ کا دینے کی پوزیشن میں ہونا ہی آپ کے لیے پانے کا استحقاق پیدا کرتا ہے، نہ کہ شکایت اور مطالبہ ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page