"اصلاحی مشین" صرف ان انسانوں
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۴۵
سے مذہبی مذاکرے کیا کرتا تھا۔ فیروز شاہ تغلق فقہا سے اس قدر متاثر تھا کہ اس نے فتاوائے فیروز شاہی کے نام سے فقہ کی تدوین کرائی جو زیادہ مقبول نہ ہوسکی۔ سکندر لودی کی خواب گاہ میں روزانہ رات کو ستر علماءءءءءءءء جمع ہوا کرتے تھے اور وہ ان سے فقہی مسائل دریافت کیا کرتا تھا۔
عہد مغلیہ میں بھی علما کی تعداد زیادہ تھی، ملاً عبدالقادر بدایونی نے اپنے عہد کے جن ممتاز علما کے حالات لکھے ہیں ان کی تعداد ۶۹ ہے، اسی طرح مآثر رحیمی کے مؤلف نے ایسے ۳۲ علما کا ذکر کیا ہے جو عبدالرحیم خانخاناں کے دامن دولت سے وابستہ تھے۔ عہد عالمگیر میں جو علما اس کے دربار میں مختلف خدمات پر مامور تھے ان کی تعداد ۴۴ ہے۔ عالمگیر کے زمانے سے مولانا شاہ عبدالرحیم کے خاندان سے جو سلسلہ الذہب چلا اس پر مسلمانوں کو آج بھی فخر ہے۔ ان علما کے ناموں پر نظر ڈالنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں بھی شیراز، کاشان تبریز، گیلان، مشہد اور ترکستان سے کچھ علما ضرور آتے رہے، لیکن ان کے مقابلے میں ہندوستانی علما کی تعداد زیادہ رہی، اور حنفی فقہ کی ترویج اور اس کی باضابطہ تدوین فتاواے عالمگیری کی شکل میں ہوئی، جس کو عالمگیر کا ایک عظیم الشان علمی و فقہی کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ حنفی فقہ سے شافعی، مالکی، حنبلی اور شیعی فقہ کا تصادم ضرور ہوا۔ لیکن اکثریت حنفی فقہ کے ماننے والوں ہی کی رہی، اور مغلوں کی بادشاہت کا دلچسپ پہلو ہے کہ وزارت کے عہدہ پر زیادہ تر شیعہ امراء مامور رہے۔ محل ایک عرصہ دراز تک راجپوت شہزادیوں کے زیر نگیں رہا لیکن سلطنت پر حنفی فقہ کا غلبہ رہا۔ (ماخوذ)
صحیح کوشش کرنے والے کے لئے ناکامی کا سوال نہیں ۔
جو حرکت کرنا چاہے اس کا راستہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ گیس نیچے نہیں، سماتی تو اوپر اٹھ کراپنے لیے جگہ حاصل کرلیتی ہے۔ پانی کو اونچائی آگے بڑھتے نہیں دیتی تو وہ نشیب کی طرف بہہ کر اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ درخت سطح پر قائم نہیں ہوسکتا تو وہ زمین کو پھاڑ کر اس سے اپنے لئے زندگی کا حق وصول کرتا ہے۔
یہی طریقہ آپ کو بھی اختیار کرنا ہے، آپ کا پہلا کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو سمجھیں، اپنی قوتوں کو صحیح ڈھنگ سے ترتیب دیں اور پھر ماحول کو سمجھ کر ماحول کے اندر اس طرح گھسیں کہ اس کے مقابلہ میں اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لئے آپ پوری طرح مسلح ہوں۔ حالات سے اپنی اہمیت منوانے کے لیے آپ نے ضروری سامان کر لیا ہو۔
لیاقت پیدا کیجئے اور دانش مندی کے ساتھ اپنے لئے راہ نکالئے، اس کے بعد آپ کو کبھی ماحول سے شکایت نہ ہوگی۔ زندگی کی کسی منزل پر آپ اپنے کو ناکام محسوس نہیں کریں گے۔ ناکامی اور مایوسی صرف وہیں آتی ہے جہاں زندگی کی ضروری شرطیں پوری کرنے میں کوئی کوتاہی رہ گئی ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues