ہاں ارشاد ہو،،
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۵۳
پادری اے ریس (ARIUS) اس ک چیلنج کرنے کیلئے اٹھا تو قسطنطین نے یہ کہہ کر اس کو خاموش کر دیا کہ اگر تم اس کو نہیں مانتے تو دوسری چیز ہمارے پاس تلوار ہے و قسطنطین کے مسیحیت قبول کرنے کے بعد ساری رومی سلطنت میں مسیحی مذہب پھیل گیا ۔ یہ تمام مسیحی اسی نئے مسیحی مذہب پر ایمان لائے تھے جو اولاً سینٹ پال اور اس کے بعد تر تولین (۲۳۰ - ۱۵۰) وغیوہ نے وضع کیا تھا۔ اس عوامی طوفان میں سچے مسیحیوں کے لیے زندہ رہنے کی کوئی شکل نہ تھی۔ اولاً خاموش اور اس کے بعد وہ دھیرے دھیرے ختم ہو گئے۔
اسلام کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ خود اللہ نے قرآن کو محفوظ رکھنے کا ذمہ لیا ہے۔ (جبکہ پچھلی آسمانی کتابوں کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری ان کے حاملین کے اوپر تھی) اسلام کے لیے یہ خطرہ نہیں کہ وہ کبھی بدل کر کچھ سے کچھ ہو جائے یا مٹ کر ختم ہو جائے۔ مگر حفاظت کا یہ وعدہ متن اسلام کے لیے ہے، اگر وہ اسلام کے لئے نہیں ہے یہ بالکل ممکن ہے کہ اسلام پر بھی ایسا زمانہ آئے کہ کتابی حیثیت سے تو متن اسلام (قرآن) مکمل طور پر محفوظ ہو مگر عملاً ایسا ہو کہ آسمانی مذہب کے بجائے ” بزرگوں کا مذہب “ اس طرح رائج ہو جائے کہ عملاً وہی قرآن کی جگہ لے لے۔ جیسا کہ دوسری قوموں میں ہوا ہے ۔ قرآن کی تلاوت تو خوب ہو رہی ہو مگر دین کو بزرگوں سے لیا جانے لگے حتی کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اسلام کی یہ خود ساختہ شکل عوام میں اس قدر مقبول ہو کہ اسلام کے سچے پیرو اس کے طوفان میں دب کر رہ جائیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ رہ غلط ہے ، بہت سے لوگ اس لیے اس کے ساتھ لگ جائیں کہ عوامی کھیلاؤ کی وجہ سے دنیوی فائدے اس سے وابسته ہو گئے ہیں۔ علماء اس کے خلاف بولنے سے اس لئے ڈریں کہ ان کے مدرسوں کے چندے بند ہو جائیں گے۔ قائدین اس لئے اس سے قطع تعلق نہ کریں کہ انھیں اندیشہ ہو کہ ان کے استقبال کرنے والوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔ بہت سے کتاب اللہ کا علم رکھنے والے اس کو کتاب اللہ کے موافق نہ پائیں مگر اس لئے اس کے گروہ میں شامل رہیں کہ ملک کے اندر اور ملک کے باہر اس کے پھیلے ہوئے حلقہ سے وہ بہت سے مفادات حاصل کر سکتے ہیں۔
عوامی مقبولیت کبھی سچائی کی سند نہیں رہی ہے۔ بلکہ کسی تحریک کا زیادہ پھیلاؤ اکثر یہ شبہ پیدا کرتا ہے کہ اس کے اندر کوئی غلطی تو شامل نہیں، کیونکہ حق کو ماننے والے ہمیشہ کم ہوتے ہیں اور اس کو پانے والے اور بھی کم۔
ورقہ بن نوفل نے پیغمبر اسلام سے کہا تھا: "کاش کہ اس زمانہ میں جب لوگ آپ کو قبیلہ سے نکال دیں گے میں زندہ رہوں۔ " یہ الفاظ ورقہ نے پیغمبر اسلام سے ۶۱۰ء میں کہے تھے اس کی پیشگوئی ۶۱۴ میں سامنے آگئی۔ "
اوپر کا فقرہ کوئستان در ثریل خارج کی کتاب "پیغمبر اسلام" سے ماخوذ ہے۔ تمام پیغمبروں میں یہ صرف پیغمبر اسلام کی خصوصیت ہے کہ آپ کی زندگی کے ہر واقعہ کو سن اور تاریخ کی زبان میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ آپ کی زندگی تاریخ کا ایک صفحہ ہے نہ کہ محض روایاتی کہانیوں کا مجموعہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues