Al-Risala · April 1977 · page 52

ہاں ارشاد ہو،،

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۵۲

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ عوامی بھیڑ میں سچائی دُب کر رہ جاتی ہے حضرت مسیح کو اللہ نے بہت سے معجزے دیئے تھے۔ وہ مٹی کے پرندہ پر پھونک مارتے اور وہ سچ مچ پرندہ بن کر اڑنے لگتا۔ وہ اندھے اور کوڑھی پر ہاتھ پھیرتے اور وہ فوراً اچھے ہوجاتے اور دیکھنے لگتے، وہ مرے ہوئے انسان سے کہتے کہ اٹھ، اور وہ دوبارہ زندہ ہو کر کھڑا ہو جاتا۔ وہ بتا دیتے کہ کس کے پیٹ میں کیا ہے اور کس کے گھر میں کن چیزوں کا ذخیرہ ہے (آل عمران - 49) یہ حیران کن باتیں آپ کے فرستادہ الٰہی ہونے کا ثبوت تھیں مگر یہود نے ان کو آپ کے انکار کا بہانہ بنا لیا۔ انھوں نے کہا: یہ کوئی معلم دین یا قانون ساز نہیں، بلکہ شعبدہ باز ہے وگلیل کے سادہ مزاج باشندوں میں اس نے شہرت و مقبولیت حاصل کر لی ہے۔ تاہم فلسطین کے مشترک رومیو کا تاشرو دوسرا تھا، مشترک قوموں کا عام مزاج یہ رہا ہے کہ جس کے اندر کوئی غیر معمولی بات دیکھتی ہیں۔ اس کو خدا سمجھ لیتی ہیں۔ ہر نا با حواری کی انجیل میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح کے معجزوں کو دیکھ کر اس زمانہ کے مشرک رومی سپاہیوں نے آپ کو خدا اور بعض نے خدا کا بیٹا کہنا شروع کر دیا تھا۔

حضرت مسیح کے بعد جب سینٹ پال آپ کے مذہب میں داخل ہوا تو اس کو مسیحیت کے پھیلانے کے لیے سب سے آسان نسخہ یہ سمجھ میں آیا کہ عوامی ذہن کی رعایت سے مسیحیت کی ایک ایسی تعبیر پیش کی جائے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔ حضرت مسیح کی تعلیم کے مطابق آپ کے ابتدائی پیرو موسوی شریعت پر عمل کرتے تھے۔ سینٹ پال نے اعلان کر دیا کہ ایک عیسائی، شریعت یہود کی تمام پابندیوں سے آزاد ہے۔ اس زمانہ کے رومیوں اور یونانیوں کے مذہب متھرا پرستی (MITHRAS) کے عقائد کو صرف الفاظ بدل کر مسیحیت میں داخل کر لیا اور کہا کہ مسیح خدا کے بیٹے تھے اور صلیب پر جان دے کر وہ اولاد آدم کے پیدائشی گناہ کا کفارہ ہوگئے ہیں، اب صرف ان پر ایمان لانا ہی نجات کے لیے کافی ہے۔

حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں نے سینٹ پال کی اس خود ساختہ مسیحیت کی سخت مخالفت کی، مگر سینٹ پال نے اپنی گھڑی ہوئی مسیحیت میں اس وقت کے عوام کے لیے جو اعتقادی کشش اور سہولت رکھ دی تھی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ کثرت سے مسیحی دین میں داخل ہونے لگے حتیٰ کہ جدید مسیحیوں کا ایک سیلاب امڈ پڑا ۔ اس عوامی ریلے میں سچے مسیحی جو تعداد میں بہت کم تھے، دب کر رہ گئے تاہم تیسری صدی عیسوی کے خاتمہ تک بہت سے ایسے لوگ موجود تھے جو حضرت مسیح کو بندہ اور رسول مانتے تھے اور آپ کی الوہیت کے عقیدہ کو غلط قرار دیتے تھے مگر چوتھی صدی کے آغاز میں جب مشرقی رومی شہنشاہ قسطنطین 272 بعض سیاسی محرکات کے تحت عیسائی بن گیا تو سینٹ پال کی ایجاد کردہ مسیحیت کو سیاسی اقتدار کی سرپرستی بھی حاصل ہو گئی ۳۲۵ء میں نیقیہ (NICAEA) کی کونسل میں ۳۱۸ مسیحی نمائندے جمع کئے گئے تاکہ مسیحیت کا سرکاری عقیدہ متعین کریں۔ اس میں ۳۱۳ نمائندوں نے سرکاری تشریح کی حمایت کی بقیہ اس کے خلاف ہے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page