ہاں ارشاد ہو،،
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۵۵
دوسروں تک پہنچار ہے ہیں۔
قرآن کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بنتی آدم کی طرف خدا کے آخری منذر ( آگاہ کرنے والے) تھے۔ آپ نے قرآن کے ذریعے انذار کی یہ ذمہ داری ادا فرمائی اور اپنے بعد کتاب اللہ کو محفوظ حالت میں چھوڑ گئے کہ وہ قیامت تک لوگوں کے لئے آگاہی کا ذریعہ بنی رہے۔
آپ کے بعد یہ قرآن کس طرح لوگوں تک پہنچے گا۔ اس کا ذریعہ امت محمدی ہے۔ امت محمدی کی پہلی اور لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن کی آواز کو تمام اقوام عالم تک پہنچائے۔ مگر افسوس کہ آج ساری دنیا میں کوئی بھی دار خاص اس مقصد کے لئے قائم نہیں۔ حتی کہ مسلمان اپنی اس ذمہ داری کے شعور تک سے غافل ہو چکے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے تو یہ کہا تھا کہ میں "بنی اسرائیل کی کھوئی بھیڑوں" کے پاس بھیجا گیا ہوں، مگر آپ کے پیروؤں کے جوش تبلیغ نے مسیحیت کو ساری دنیا کے لئے قابل مطالعہ بنا دیا۔ اس کے برعکس پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح لفظوں میں اعلان فرمایا کہ میری بعثت سارے عالم کے لئے ہے مگر آپ کے پیروؤں کے اندر یہ آگ نہیں بھڑکتی کہ آپ کے پیغام کو سارے عالم تک پہنچائیں۔ جرمن پادری کی طرف سے میں نے عربی بائبل کا نسخہ وصول کیا تو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ زبان حال سے کہہ رہا ہو: دیکھو تم اسلام کا پیغام پھیلانے میں ناکام رہ گئے اور ہم ساری دنیا میں مسیحیت کا پیغام پہنچارہے ہیں"۔
وحید الدین خاں (پیدائش ۱۹۲۵)
جمعتیہ بلڈنگ، قاسم جان اسٹریٹ۔ دہلی مولانا اخلاق حسین قاسمی ایک نصیحت قوموں کی قسمت خود اپنے کردار سے بنتی ہے۔ کسی بھی پارٹی کے ساتھ لگ جایئے، کسی کے جھنڈے اٹھایئے، اس سے کچھ نہیں بنتا۔ ہمارے رہنما کچے پکے مکانوں پر بلڈوزر چلانے کا ماتم کر رہے ہیں، لیکن ان کو یہ نظر نہیں آ رہا ہے کہ جس قوم کے اخلاق کی عمارت بوسیدہ ہو جاتی ہے، اس پر کوئی رحم نہیں کرتا۔ اس پر قدرت کا بلڈوزر چلتا ہی ہے۔
ہمارے اسلاف نے بوسیدہ مکانوں میں رہ کر دلوں پر حکمرانی کی اور آج ہم فلک بوس عمارتوں میں رہ کر بھی محکوم اور غلام ہیں۔ یہ صرف اخلاقی بلندی اور پستی کا فرق ہے۔ دل کی بھڑاس نکال لیجئے۔ لیکن اس کی قیمت بہت بڑی چکانی پڑے گی۔
جو لوگ اعصابی اور مغلوب الغضب ہوں ان کے لئے میدانِ سیاست کا کارزار کسی طرح موزوں نہیں یہ تو وہ میدان ہے جہاں بے پناہ قوت برداشت ضرورت ہے۔
اس پارٹی کی فتح ہو یا اس پارٹی کی۔ اگر ہمارے اخلاق کا حال یہی ہے تو ہم شکست کھا گئے۔ کوئی آئے اور کوئی جائے، لیکن یہ ملت ہندوستان میں ماتم ہی کرتی رہے گی:
کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگماں حرم سے کہ امیرِ کارواں میں نہیں خُوئے دل نوازی
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues