ہاں ارشاد ہو،،
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۵۶
دسمبر ۱۹۷۶ء کے آخری ہفتہ میں میوات (ہریانہ) کے چند مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا : بھادس بر کلی پنگواں نیم کھیڑا، بڑھیڈ اور فیروز پور جھر کا ۔ ۲۰ دسمبر کی شب نیم کھیڑا (ضلع گوڑگاؤں) میں گزری۔ یہاں گاؤں کے کنارے اونچائی پر ایک مسجد ہے، جس کے شمالی جانب کشادہ صاف ستھرا کمرہ بنا ہوا ہے۔ یہاں مسجد میں نماز عشاء کے بعد ایک تذکیری مجلس ہوئی جس میں راقم الحروف نے بعض احادیث کی روشنی میں بتایا کہ اسلامی زندگی یہ ہے کہ آدمی تقویٰ کی رسی میں بندھ جائے۔ وہ ہر معاملہ میں بس وہیں تک جائے جہاں تک حدود اللہ اس کو اجازت دیتی ہوں۔ اس کے آگے اس کا ایمان اور خوفِ آخرت اس کو روک لے۔
مولانا عبد الرحيم بڑھیڈوی اس مسجد میں امام اور مدرس کی حیثیت سے مقیم ہیں، گاؤں کے بچے قرآن اور دینی تعلیم کے لئے یہاں جمع ہوجاتے ہیں۔ ان کے مل کر پڑھنے سے ایک قسم کا تعلیمی نغمہ مسجد کی فضا میں گونجتا رہتا ہے۔ گاؤں کے لوگ ملنے کے لئے کمرہ میں آتے رہے اور اس طرح گاؤں کے لوگوں سے دینی ربط جاری رہا۔ خاص طور پر جناب شمس الدین صاحب اور ان کے اہل خاندان سے جن کا مکان مسجد سے بالکل ملا ہوا ہے۔
کمرہ کا جائے وقوع ایسا ہے کہ صبح کو سورج نکلتے ہی دھوپ کمرہ کے اندر آگئی۔ سردی کے موسم میں صبح صبح چمکتا ہوا سورج جب اپنی سنہری کرنوں کے ساتھ ہماری قیام گاہ کے اندر داخل ہوا تو ایسا محسوس ہوا گویا زمین والوں کے ساتھ ہم آسمان والوں سے" سے بھی مربوط ہو گئے ہیں۔ مسجد کے باہر پھیلے ہوئے ہرے ہرے کھیت، ان میں جگہ جگہ کھڑے ہوئے درخت دور آسمان کو چھوتی ہوئی نیپ ائرا رودادِ سفر کی دیواریں ان قدرتی مناظر کے درمیان چڑیوں کے چہچہانے کی آوازیں، اس ماحول میں بیٹھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے خالق اپنی مخلوقات کے پورے کارخانے کے ساتھ ہماری پشت پر آ کر کھڑا ہو گیا ہے۔ شہری زندگی میں آدمی تمدن کی مصنوعی حد بندیوں میں گم رہتا ہے، مگر شہروں کے باہر قدرت کی جو پھیلی ہوئی دنیا ہے، وہاں اپنے کو پہنچا دیجئے تو زندگی اپنی تمام تنگیوں کے باوجود وسیع معلوم ہونے لگتی ہے، آدمی اپنے کو ایک آفاقی مملکت کا شہری سمجھنے لگتا ہے۔
شہر کے تمدنی بندھنوں میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان ایک ایسے جال میں پھنسا ہوا ہے جس سے رہائی ممکن نہیں۔ مگر دیہات کی کھلی فضا جہاں ہریالی، میدان چڑیوں کے چہچہے، پہاڑوں کی بلندیاں انسان کا استقبال کر رہی ہوں، جہاں آسمان کی وسعتیں خدا کی قدرت کو یاد دلاتی ہوں، زندگی کے معنی بالکل بدل جاتے ہیں۔ یہاں تنگیاں وسعتوں میں تحلیل ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ انسانوں کے پیدا کئے ہوئے مسائل خدائی عظمتوں کے آگے حقیر ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ زندگی کی تاریکیاں کائنات کی تابناکیوں میں غائب ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ مختصر یہ ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا آدمی، انسان کے بنائے ہوئے وحشت کدہ سے نکل کر خدا کی پرسکون دنیا میں پہنچ گیا ہے۔ یہاں آکر زندگی کے معنی بالکل بدل جاتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues