Al-Risala · April 1977 · page 58

ہاں ارشاد ہو،،

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۵۸

کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کو زمانہ کا شعور نہیں۔ میووں کے درمیان ایک مثل مشہور ہے:

جاٹ کہے سن جاٹنی یائی گاؤں میں رہنا اونٹ بلیا لے گئی، ہاں جی ہاں جی کہنا اس شعر میں جس مفاہمت اور حقیقت پسندی کا ذکر ہے وہ میووں کے روایتی تصور میں دبی ہوئی قوموں کا طریقہ تھا میووں کا خیال اپنے بارہ میں یہ رہا ہے کہ ہمیں دوسروں سے مفاہمت تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، ان کی لاٹھی، ان کے نزدیک ، اس قسم کی "بزدلی" کا بہترین بدل تھی۔ آج زندگی کے معنی بالکل بدل گئے مگر میو اب بھی انھیں روایتی تصورات اور رومانی خیالات میں جی رہے ہیں۔ آج بھی اگر کوئی معاملہ پیش آجائے تو وہ فوراً لڑنے بھڑنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں، خواہ اس کا نتیجہ یہ کیوں نہ نکلے کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ برے حال کو پہنچا دیئے جائیں۔ دین، اپنی حقیقی شکل میں، دنیا کا بھی شعور بیدار کرتا ہے اور آخرت کا بھی۔ مگر اس قابل رحم قوم کے حصہ میں ایک ایسا دین آیا ہے جس نے اس کو دنیا کا صحیح شعور دیا اور نہ آخرت کا۔ آپ لکڑی کو توڑیں تو وہ دو ٹکڑے ہو کر رہ جائے گی۔ مگر ایک زندہ امیبا جب ٹوٹتا ہے تو وہ دو زندہ امیبا بن جاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ تقسیم اور شکست اس دنیا میں صرف مردہ چیزوں کے لئے مقدر ہیں۔ ایک چیز جو زندہ ہو، اس کو کبھی توڑا نہیں جا سکتا۔ زندہ چیز اگر ٹوٹتی ہے تو اس کا ہر حصہ ایک نئے زندہ وجود کی شکل اختیار کر لیتا ہے، اور پہلے سے بھی زیادہ عظیم بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues

Printed page