ہاں ارشاد ہو،،
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۷، صفحہ ۵۷
مگر کیسی عجیب بدقسمتی ہے کہ لوگوں کو ان حقائق کا شعور نہیں۔ وہ خدا کے پڑوس میں ہو کر بھی انسان کی بنائی ہوئی دنیاؤں میں گم رہتے ہیں۔ آسمان کی فضاؤں سے انھیں اپنی غذا نہیں ملتی۔ چڑیوں کے زمزمے میں انھیں کوئی پیغام سنائی نہیں دیتا۔ درختوں کی ہریالی میں انھیں زندگی کا کوئی سبق نہیں ملتا۔ پہاڑوں کی بلندی میں ان کے لئے نصیحت کا کوئی سامان نہیں ہے۔ وہ صرف انسانوں کی آواز سن سکتے ہیں۔ خدا اور فرشتوں کی آواز سننے کے لئے ان کے کان بہرے ہیں۔ خدا اپنی پوری کائنات کے ساتھ ان کے سامنے کھڑا ہوا ہے، مگر ان کی آنکھیں صرف انسانی مصنوعات کو دیکھ سکتی ہیں۔ خدائی کارخانہ کو دیکھنے کی صلاحیت ان کے اندر نہیں۔ خدا یہاں پہاڑ کی بلندیوں اور آسمان کی وسعتوں سے اعلان کر رہا ہے کہ: "میرے سائے میں آجاؤ، میرا جو اترہم ہے اور میرا بو جھ ہلکا"۔ مگر کوئی نہیں جو اس ربانی پیغام سے آشنا ہو۔ جاری رکھیں ۔
”میوات“ کا لفظ باہر کے لوگوں کے لئے ایک افسانوی نام بن گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ میو قوم، جس کے نام سے یہ علاقہ منسوب ہے، اس ملک کی سب سے زیادہ پچھڑی ہوئی قوم ہے۔ جگہ جگہ قدیم طرز کی درگاہوں کی بڑی بڑی عمارتیں بتاتی ہیں کہ یہ علاقہ سیکڑوں برس سے بزرگوں کی توجہات کا مرکز رہا ہے۔ ایک میو سلام کے بعد مصافحہ کے لئے اپنا ہا تھ آپ کی طرف بڑھائے گا تو اس کے ہاتھ میں لٹکی ہوئی تسبیح بتائے گی کہ ان اصلاحی کاموں کے اثرات بھی اس قوم نے قبول کئے ہیں۔ مگر اور رشاذ و نوافل سے اوپر حقیقی دینی تبدیلیاں شاد و نادر ہی کہیں نظر آتی ہیں ہم گاؤں کے باہر نکلے تو حد نظر تک ہرے بھرے کھیت پھیلے ہوئے تھے۔ ایک کھیت میں گیہوں کی فصل نہایت عمدہ کھڑی ہوئی تھی۔ ”یہ کس کا کھیت ہے“ میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا: ”سر من کا کھیت ہے جو ایک مسلمان مسجد اور گاؤں میں کچھ لمحات گزارنے کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ قرآن کی آیت وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقِيمُوا الصَّلَوةَ کا مطلب کیا ہے یعنی حالات جب اہل ایمان کو اتنا پیچھے دھکیل دیں کہ عملاً ان کے لئے گھر اور مسجد کے سوا کوئی اور میدان کار باقی نہ رہے تو تو انھیں چاہئے کہ اسی ملے ہوئے دائرے کو اپنے عمل کے لئے خاص کر لیں ۔ خارجی دنیا کے خلاف شکایت اور احتجاج کا میمورنڈم مرتب کرنے میں وہ اپنا وقت ضائع نہ کریں بلکہ گھروں اور مسجدوں کو مرکز بنا کر ایک طرف اپنے رب کے ساتھ اور دوسری طرف اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ جڑ جائیں اور جو دائرہ بھی ان کے لئے باقی رہ گیا ہے ، اس کے اندر دینی بیداری کی کوشش نے دوسرے مسلمان سے لیا ہے،" یہ سنتے ہی میری خوشی ختم ہوگئی۔ مجھے حدیث یاد آئی: كل لحم نبت من السحت فالنار اولی به (ہر جسم جو حرام سے پلے اس کے لئے آگ ہی بہتر ہے) تاہم اس علاقہ کے لئے یہ کوئی انوکھی مثال نہیں۔ "داڑھی اور تسبیح" والے اسلام کی کثرت کے باوجود یہاں اس قسم کی بے شمار خرابیاں عمومیت کے ساتھ جاری ہیں۔
اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ دنیوی عقل، جو آدمی کے گردو پیش کے حالات خود اپنے زور پر اس کو سکھا دیتے ہیں ، اس سے بھی یہ قوم ابھی تک خالی ہے۔
یہ قوم ایک انتہائی برباد قوم ہے۔ اس کی بربادی
‹ Previous page Next page › Contents of April 1977 All issues