الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۶۷
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۶۷
حضرت یحییٰ علیہ السلام کی خوراک جنگلی شہد اور ٹڈیاں تھیں۔ وہ اونٹ کے بالوں کا کپڑا پہنتے تھے ، اور راستوں میں بلند آواز سے پکارتے ہوئے چلتے تھے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے پاس اپنا کوئی مکان نہ تھا، وہ دن کے وقت لوگوں میں چل پھر کر ان کو خدا کا پیغام پہنچاتے اور جب رات ہو جاتی تو پہاڑوں میں جا کر سورہتے۔ یہ حق کی تبلیغ کا زبانی طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ قلم کا ہے جس کو پریس کی ایجاد نے موجودہ زمانہ میں بہت زیادہ ترقی دے دی ہے۔ پریس نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ حق کی پیغام رسانی کے کام کو زیادہ منظم اور زیادہ وسیع شکل میں انجام دیا جاسکے۔
ماہنامہ الرسالہ کا اجرا در اصل اس بات کا ایک آزمائشی تجربہ تھا کہ کیا اس جدید طریقہ کو حق کی آواز پہنچانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہمارا اب تک کا تجربہ اس سلسلے میں زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ یہ کام زبانی طریقہ کے برعکس ، بہت زیادہ مالیاتی قربانی مانگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسروں کے تعاون کے بغیر اس کو چلانا کسی طرح ممکن نہیں۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کو یا تو افیونی مذہب سے دل چسپی رہ گئی ہے یا جذباتی سیاست سے۔ کسی حقیقی دینی کام کی راہ میں تعاون کرنا وہ نہیں جانتے۔
اس میں شک نہیں کہ لفظی تعریفوں کے سلسلے میں لوگوں نے ہمارے ساتھ بخل سے کام نہیں لیا۔ ایسے لوگوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح مفت حاصل کر کے اس کو پڑھ لیا کریں۔ مگر جہاں تک عملی تعاون کا معاملہ ہے، بدستور زر می طلبی سخن درین است کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ ایسی صورت حال ہے جس میں کسی سنجیدہ پرچہ کو دیر تک باقی نہیں رکھا جا سکتا۔
الرسالہ اب تک زیادہ تر ذاتی قربانی کے بل پر نکلتا رہا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ الرسالہ کے خادموں کا یہ مجنونانہ اقدام محض کلمة باقية (زخرف - (۲۸) اور معذرة الى ربكم (اعراف - ۱۶۴) بن کر رہ جائے گا، یا اس سے آگے کسی منزل تک پہنچے گا۔ خدا کے ہاتھ میں دونوں ہیں اور ہم اپنے رب سے بہر حال یہی توقع رکھتے ہیں کہ اس کے علم محیط میں ہمارے لئے جو بہتر ہوگا، وہ اس کا فیصلہ فرمائے گا۔