الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۴
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۴
زید بن ثابت انصاری چھ زبانیں جانتے تھے رمضان 2 ھ میں بدر کا معرکہ پیش آیا، جس میں مسلمانوں کی تعداد، مشہور روایت کے مطابق ۳۱۳ تھی، اور دشمنوں کی تعداد ساڑھے نوسو۔ یعنی جنگی مسلمان کامیاب رہے اور بہت سے قیدی ہاتھ آئے۔ ان کے لئے رہائی کا یہ فدیہ مقرر کیا گیا کہ جو قیدی لکھنا پڑھنا جانتا ہو وہ دس دس مسلمان بچوں کو اس فن کی تعلیم دے۔ بعض محدثین نے اس واقعہ کا عنوان باندھا ہے۔ "مشرک کو استاد بنانے کا جواز"
مدینہ آنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا کام جو کیا وہ مسجد کی تعمیر تھی۔ اس عمارت کے ایک حصہ میں سائبان اور چبوترہ (صفہ) بنایا گیا ۔ یہ گویا اسلام کی اولین اقامتی درس گاہ تھی۔ بعض مصنفین نے اہل صفہ کے چار سو طلبہ کا ذکر کیا ہے۔ ان لوگوں کی تعلیم کے لئے اساتذہ مقرر تھے۔ عبداللہ بن سعید بن العاص انہیں لکھنا سکھاتے تھے۔ عبادہ بن الصامت سے مروی ہے کہ "رسول اللہ نے مجھے مامور کیا تھا کہ میں صفہ میں لوگوں کو لکھنا سکھاؤں اور قرآن پڑھاؤں" مدینہ میں ۵ھ میں ایک اور اقامتی درس گاہ دار القرار کا بھی پتہ چلتا ہے جو مخرمہ بن نوفل کے مکان میں قائم ہوئی تھی۔ عمرو بن حزم کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا گیا تو انہیں فرائض منصبی کے متعلق ایک تحریری ہدایت نامہ دیا گیا جس میں دیگر امور کے علاوہ تعلیم کے انتظام کا حکم بھی درج تھا۔ طبری نے ۵ھ کے واقعات میں لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل کو ناظم تعلیمات بناکر یمن بھیجا، جہاں وہ ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں دورہ کرتے اور مدارس کی نگرانی کرتے تھے۔
جیسا کہ مشہور ہے، ہجرت کے سفر میں آپ نے سراقہ بن مالک کو پروانہ امن لکھ کر دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ اس ہنگامی سفر میں بھی قلم، دوات اور کاغذ آپ کے ساتھ موجود تھا۔ مورخوں نے آنحضرتﷺ کے کاتبوں کی فہرست کے لیے مستقل باب قائم کئے ہیں۔ بعض کاتب (سیکرٹری) نئی نازل ہونے والی وحی کو لکھتے، بعض سرکاری مراسلوں کا مسودہ مرتب کر کے آپ کی خدمت میں پیش کرتے، بعض زکوٰۃ اور محاصل کے حسابات لکھتے۔ بعض مال غنیمت کے اندراج اور تقسیم کا کام انجام دیتے۔ بعض بیرونی حکمرانوں اور قبائل کے سرداروں کے نام خط لکھتے۔ بعض فصل کے کٹنے سے پہلے تخمینہ (خرص) نوٹ کرتے۔
زید بن ثابت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے عبرانی خط بھی سیکھا تھا۔ کیونکہ عرب کے یہودی بولتے تو عربی زبان تھے مگر لکھتے عبرانی خط میں تھے اور آپ سے مراسلات میں اسی خط کو استعمال کرتے تھے۔ مسعودی کے مطابق زید بن ثابت عربی کے علاوہ فارسی، یونانی، قبطی، حبشی اور عبرانی زبانیں بھی جانتے تھے اور بیرونی وفود سے گفتگو میں آنحضرتﷺ کے مترجم کا کام انجام دیتے تھے۔ عبد اللہ بن عمر و بن العاص کے متعلق آتا ہے کہ انھوں نے عربی کے علاوہ سریانی زبان سیکھی تھی۔ وہ ۴۵ھ میں 72 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔
علیکم بالفقه فی الدین وحسن العبادة والتفهم فی العبادة ۔ دین میں بصیرت حاصل کرو، بہتر عبادت کرو ، عربیت میں سمجھ پیدا کرو۔ ارشاد عمر فاروق