Al-Risala · May 1977 · page 10

دوسری جگہ ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۱۰

مولانا محمد تقی امینی یہ تھی اسلامی خلافت خلیفہ دوم حضرت عمر ی اللہ عنہ نے اسلامی خلافت کی ذمہ داریوں کو ان لفظوں میں واضح فرمایا ہے : لومات کلب علی شاطى الفرات جو عا لکان عمر مسئولا يوم القيمة کی جائے گی ۔

عمر بن سعدؓ جو حمص کے حاکم تھے اور زہد وتقدس میں تمام عہدہ داروں سے ممتاز تھے ایک مرتبہ ان کی زبان سے ایک غیر مسلم کے لئے یہ لفظ نکل گیا ۔ اِخزاکَ الله اللہ تجھ کو رسوا کرے اس پر ان کو اس قدر ندامت ہوئی کہ حضرت عمرؓ کے پاس حاضر ہو کر اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور کہا اگر کتا بھوک کی وجہ سے فرات (جیسی دور دراز جگہ پر) کے کنارے بھی مر گیا تو قیامت کے دن عمرضہ سے اس کی باز پرس ہوگی دوسری جگہ ہے۔

لوتركت عنز حبداء الى جانب ساقية لم تدهن لخشيت ان اسئل عنها يوم القيمة اگر نہر کے کنارے بھی کوئی خارش والی بکری اس حال میں رہ جائے کہ اس پر (بطور علاج) تیل کی مالش نہ ہو تو ڈر ہے کہ قیامت کے دن عمرضہ سے اس کی باز پرس ہوگی۔ ملک کے تمام افراد کو حقوق اور مملکت کے قوانین میں مساوی قرار دیا۔ قومیت، ذات، پات، رنگ، زبان اور تصور حیات کی بنا پر کسی قسم کی تفریق گوارا نہ کی جیسا کہ "دستور" کی درج ذیل دفعات سے ظاہر ہے۔ (۱) مسلم اور غیر مسلم دونوں کے خون کا معاوضہ مساوی (۲) تعزیرات میں دونوں برابر ہیں یعنی جرائم کی جوسزا مسلمانوں کو دی جائے گی وہی غیر مسلم کو دی جائے گی، (۳) دیوانی قانون میں دونوں برابر ہیں۔ (۴) غیر مسلموں کو کسی قسم کی تکلیف پہنچانا، حتیٰ کہ پیٹھ پیچھے ان کی برائی کرنا قانوناً جرم ہے۔

(۵) غیر مسلموں کی عزت و آبرو کی اس قدر حفاظت کی جائے گی جس قدر مسلمانوں کے عزت و ناموس کی حفاظت ہو، کہ اس ملازمت کی بدولت مجھ سے یہ حرکت صادر ہوئی ہے ہر قوم و ملک کے مذہب و کلچر کو خصوصیت سے برقرار رکھا اور غیر مسلموں کے معاملات ان ہی کے مذہبی طریقے اور رسم و رواج کے مطابق طے کئے۔ چنانچہ ابو عبیدہ رض کہتے ہیں:

اقر ا أهلها فيها على مللهم وشرائعهم مفتوحہ ممالک کے باشندوں کو ان کے اپنے مذہب اور رسم و رواج پر برقرار رکھا۔

دوسری جگہ ہے

فهم احرار فى شهاداتهم ومنا كحا تهم و مواريتهم وجميع احكا مهم یہ سب لوگ اپنی شہادتوں میں، نکاح کے معاملات اور وراثت کے قانون میں غرض اپنے تمام قواعد و قانون میں آزاد تھے ۔ اس زمانہ کے ایک نسطوری پادری نے اپنے تحفظات کے بارے میں یہ تاثرات قلم بند کئے ہیں۔ "یہ طائی (عرب) جنھیں خدا نے آج کل حکومت عطا فرمائی ہے وہ ہمارے بھی مالک بن گئے ہیں۔ لیکن وہ عیسائی مذہب سے مطلق بر سر پیکار نہیں ہیں، بلکہ اس کے برخلاف وہ ہمارے دین کی حفاظت کرتے ہیں، ہمارے پادریوں اور مقدس لوگوں کا احترام کرتے ہیں اور ہمارے گرجاؤں اور کلیساؤں

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page