جب زندگی کا رخ آخرت کی طرف ہو جائے
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۵
قرون وسطیٰ کے سیاحوں نے لکھا تھا کہ بحر مردار کے اوپر کوئی چڑیا نہیں اُڑتی، کیونکہ اس کی ہوا زہریلی ہوچکی ہے۔ صحیح ہے کہ گیسوں کے مسلسل اخراج کی وجہ سے یہاں کی فضا بدبو دار رہتی ہے۔ مگر جیسا کہ جدید محققین نے بتایا ہے چڑیوں کے اس علاقہ میں نہ جانے کی وجہ یہ ہے کہ بحر مردار کے اندر مچھلی نہیں، نباتات کی بھی کوئی قسم وہاں برائے نام ہی پائی جاتی ہے۔
بحر مردار دنیا کا سب سے زیادہ کھاری ذخیرہ آب ہے۔ عام سمندر جتنے کھاری ہوتے ہیں اس کے مقابلہ میں بحر مردار چھ گنا زیادہ کھاری ہے۔ یہ تقریباً ۵۰ میل لمبا اور ۳ سے ۱۰ میل تک چوڑا ہے۔ مجموعی طور پر اس کا رقبہ ۴۰۵ مربع میل ہے۔ دریائے اردن اور دوسرے چشمے ہر روز بحر مردار کے اندر ۶۵ لاکھ ٹن میٹھا پانی گراتے ہیں۔ مگر بحر مردار کی شدید گرمی کی وجہ سے یہ سارا پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے، اور سمندر کا کھاری پن کم نہیں ہوتا۔ اس کا پانی اتنا گاڑھا ہے کہ آدمی بآسانی اس کے اوپر سے پھسل سکتا ہے، وہ ڈوب نہیں سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بحر مردار میں ٹھوس مادہ مثلاً نمک، جپسم پوٹاش، میگنیشیم وغیرہ ۲۵ فی صد شامل ہیں۔ جبکہ عام سمندروں میں ان کی مقدار صرف تین فی صد ہوتی ہے۔
بحر مردار کا نصف حصہ شرق اردن میں ہے اور نصف اسرائیل میں۔ شرق اردن نے منصوبہ بنایا ہے کہ وہ اپنے علاقہ میں تیل کی کمی کو بحر مردار کی معدنیات کے ذریعے پورا کرے۔ ایک عرب کمپنی کے اشتراک سے پندرہ سال مطالعہ کرنے کے بعد بحر مردار کے جنوبی حصہ میں دو بند بنائے گئے ہیں۔ اس منصوبہ کا خاص مقصد بحر مردار سے پوٹاش الگ کرکے نکالنا ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ بحر مردار میں پوٹاش کے ذخائر کناڈا اور امریکہ کے بعد، سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلا پانچ سالہ منصوبہ. ۱۰ملین ڈالر کے خرچ سے 1976-1980 کے لئے بنایا گیا ہے۔ پہلے منصوبہ یہ زیادہ بڑے پیمانہ پر بنایا گیا تھا۔ مگر، ۱۹۶۷ کی جنگ میں جب اردن کے کچھ علاقے اسرائیل کے قبضہ میں چلے گئے تو منصوبہ کی وسعت میں کمی کرنی پڑی۔
منصوبہ کے ذمہ داروں نے بتایا ہے کہ بحر مردار کے پانی کا ۳۷۳ ملین کیوبک میٹر بخارات میں تبدیل کرنے سے ایک ملین ٹن پوٹاش حاصل ہوگا جس کی قیمت ایک سو ملین ڈالر ہے۔ اسی طرح میگنیشیم اور برومائٹ بھی برآمد کرنے کے لئے نکالا جائے گا۔ پانی کو بخارات میں تبدیل کرنے کے عمل کے نتیجہ میں اس کے ساتھ کئی ملین ٹن نمک بھی حاصل ہوگا۔ مگر اس کو دوبارہ سمندر میں ڈالنا ہوگا۔ کیونکہ اس کا کوئی خریدار نہیں ہے۔
منصوبہ کا دوسرا مرحلہ ۱۹۸۱ء میں مکمل ہوگا اور اس پر .. 100ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔ اس سے ۲۰ کلومیٹر کا بند بنایا جائے گا۔ اس منصوبہ کے اخراجات زیادہ تر عراق اور عالمی بنک سے حاصل کئے گئے ہیں حدیث خير الا صحاب عند الله خيرهم لصاحبه وخير الجيران عند الله خيرهم لجاره (ترمذی)
اللہ کے نزدیک سب سے بہتر ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لئے سب سے بہتر ہو اور اللہ کے نزدیک سب سے بہتر پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لئے سب سے بہتر ہو۔