Al-Risala · May 1977 · page 12

تلاش کر لیتا ھے

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۱۲

تلاش کر لیتا ھے

اس جواب کا ایک ہی اداس ہے، کر لیا ہے عثمان بن عفان کی شہادت کے بعد علی بن ابی طالب کو خلیفہ بنایا گیا۔ تمام ممالک اسلامی کے لوگ آپ کے حق میں بیعت ہو گئے، صرف شام باقی رہا جہاں معاویہ بن ابی سفیان خون عثمان کا مطالبہ کر رہے تھے اور خلیفہ چہارم سے صلح کی ہر پیش کش کو رد کر رہے تھے۔

بالآخر صفین کے مقام پر علی و معاویہ کی فوجوں میں جنگ ہوئی ۔ سارے قرائن و دلائل ثابت کر رہے تھے کہ اس معاملہ میں علی بن ابی طالب حق پر ہیں۔ حتی کہ قتال کے درمیان بعض ایسے واقعات پیش آئے جو نص صریح کی سطح پر آنجناب کی حقانیت کی تصدیق کر رہے تھے۔ مگر مخالف گروہ کے پاس الفاظ کی کمی نہ تھی، اس نے ہر ایسی چیز کی تردید میں ایک جواب تلاش کر لیا۔

خلیفہ چہارم کے ساتھیوں میں جو لوگ قتل ہوئے، ان میں ایک صحابی عمار بن یاسر بھی تھے۔ یہ نوے سال کے ہو چکے تھے۔ مگر اس بڑھاپے کے باوجود انتہائی بہادری کے ساتھ لڑے۔ جنگ کے وقت یہ رجزیہ اشعار ان کی زبان پر تھے :

من رائح الی الجنة جنت کون چلتا ہے اليوم القی الاحبة آج میں دوستوں ملنے جا رہا ہوں محمد اوحزبه محمد اور ان کی جماعت سے عمار بن یاسر کا اس جنگ میں قتل ہونا صریح طور پر شہادت دے رہا تھا کہ اس مقابلہ میں حق کس کے ساتھ ہے ، کیوں کہ مہاجرین وانصار کے درمیان یہ واقعہ مشہور تھا کہ مدینہ میں مسجد تعمیر کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمار کے سر پر ہاتھ پھیرتے جاتے اور کہتے جاتے تھے :

افسوس اے ابن سمیہ! تجھ کو باغیوں کی عمار یاسر اور سمیہ کے لڑکے تھے جن کو مکہ میں اسلام دشمنوں نے سخت ترین تکلیفیں پہنچائیں ، یہاں تک کہ دونوں شہید ہو گئے ۔ کہا جاتا ہے کہ مکہ کے ابتدائی دور میں ایک بار شہادت پر فائز ہوئے، ماں باپ کا روح فرسا انجام دیکھنے کے باوجود عمار کے عزم میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ مزید یقین کے ساتھ اسلام پر جم گئے۔ راویان آثار و سیر کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آل یاسر کی طرف سے ایسے وقت میں گزرے جب کہ ان پر تشدد کیا جارہا تھا۔ یاسر کے منہ سے صرف اتنا نکلا :

یا رسول اللہ! بس یہ ہے دنیا۔

راویان سیر کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

آل یاسر صبر کرو، تم سے جنت کا وعدہ ہو چکا ہے،" یاسر اور ان کی بیوی سمیہ اسلام میں سب سے پہلے مرتبہ عمار بن یاسر پہلے کئی مسلمان ہیں جنہوں نے اپنے گھر میں مسجد بنائی۔ اسباب نزول کی روایات کے مطابق ذیل کی آیت انھیں کے بارے میں اتری تھی :

بھلا جو شخص اپنی راتوں کو سجدہ و قیام کی حالت میں گزار رہا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہو (وہ اور غافل لوگ یکساں ہیں) کہو کیا علم والے اور بے علم والے دونوں برابر ہو سکتے ہیں۔ وہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں جو عقل والے ہیں ،، (زمر)

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page