Al-Risala · May 1977 · page 24

تلاش کر لیتا ھے

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۲۴

اپنے معاملہ میں ہوشیار دوسرے کے معاملہ میں بیوقوف یوگنڈا کے صدر عیدی امین نے وزیر اعظم مرار جی ڈیسائی کو مبارک باد کا خط بھیجا ہے۔ اسی کے ساتھ اٹھوا نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے نام بھی ایک خط روانہ کیا ہے جس میں اس بات کا شکریہ ادا کیا ہے کہ ان کی حکومت نے ہندوستان اور یوگنڈا کے درمیان اچھے تعلقات قائم رکھے۔

صدر عیدی امین نے اندرا گاندھی کے نام اپنے خط میں لکھا ہے:

I personally support those who have described you as a very intelligent leader, because soon after accepting defeat you and your government lifted at the right time the 21 month state of emergency imposed by yourself and which brought im- prisonment without trial. This timely decision by yourself and your government to lift the emergency relieved our minds because it would have been possible for the same emergency regulations to be used against those who have now lost power. Hindustan Times, March 30, 77 " میں ذاتی طور پر ان لوگوں سے اتفاق کرتا ہوں جن کی رائے یہ ہے کہ آپ نہایت ذہین لیڈر ہیں کیونکہ اپنی شکست تسلیم کرنے کے فوراً بعد آپ نے اور آپ کی حکومت نے نہایت صحیح وقت پر اکیس ماہ کی ایمرجنسی کو ختم کر دیا جس کو آپ نے نافذ کیا تھا اور جس کے تحت لوگوں کو بغیر عدالتی کارروائی کے قید کیا جا سکتا تھا۔ ایمرجنسی کو ختم کرنے کے بارے میں آپ اور آپ کی حکومت کے اس بروقت اقدام کے بعد ہم نے اطمینان کا سانس لیا، کیونکہ یہ ممکن تھا کہ اسی ایمرجنسی کے قوانین کو نئی حکومت ان لوگوں کے اوپر استعمال کرے جنھوں نے اب اقتدار کھو دیا ہے۔ اندرا حکومت سے الیکشن کا نتیجہ سامنے آنے سے پہلے ایمرجنسی ہٹانے کے لئے کہا جاتا تھا تو اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ایمرجنسی کے جاری رہنے سے کسی کا کیا نقصان ہے۔ مگر ۲۰ مارچ کی شب کو جب الیکشن کے نتائج کا اعلان ہوا تو اس حکومت کو ایمرجنسی کی حقیقت سمجھنے میں ایک منٹ کی دیر نہیں لگی۔ اس نے راتوں رات میٹنگ کر کے ایمرجنسی کے مکمل خاتمہ کا اعلان کر دیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے معاملہ میں آدمی کتنا ہوشیار ہوتا ہے اور دوسرے کے معاملہ میں کتنا بے وقوف۔ آج کی دنیا میں جس شخص کا بھی تجربہ کیجئے، تقریباً بلا استثناء آپ پائیں گے کہ وہ اپنے موافق پہلو کو سمجھنے کے لئے انتہائی ذہین ہے۔ اس کے برعکس جب معاملہ دوسرے کے موافق پہلو کو سمجھنے کا ہو تو وہ ایسا بے وقوف بن جاتا ہے، جیسے اس کو کچھ آتا ہی نہیں۔ جیسے کہ وہ اینٹ پتھر ہے نہ کہ انسان ۔ ہوشیاری کی قسم آدمی کے اوپر بہت بڑا وبال ہے۔ ایسا کر کے دراصل وہ حاکم حقیقی کے آگے اپنے خلاف خود حجت قائم کر رہا ہے۔ اگر آدمی اپنی باتوں میں بھی بے وقوفی ظاہر کرتا تو شاید وہ خدا کی پکڑ سے بچ جاتا۔ مگر اپنی باتوں میں ہوشیاری اور دوسرے کی باتوں میں بے وقوفی اس کو خدا کی پکڑ سے بچا نہ سکے گی ۔ کیونکہ اپنی باتوں میں ہوشیاری دکھا کر وہ ثابت کر چکا ہے کہ دوسرے کی باتوں میں بھی وہ اتنا ہی ذہین اور ہوشیار ہو سکتا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page