تلاش کر لیتا ھے
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۲۳
کی بغاوت اور سرکشی کی وجہ سے انگریزوں سے ان کی لڑائیاں جاری رہیں۔ آخر میں میوؤں کے چودھری محمد یسین خاں (۱۹۷۰- ۱۸۹۷) کے اس کارنامہ کوئلی مؤلف کتاب نے اہتمام کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ان کی تحریک الور‘‘ نے مہاراجہ سوائی جے سنگھ آف الور کو ریاست کے اقتدار سے محروم کر دیا تھا !
مگر سوال یہ ہے کہ لڑائی بھڑائی کے ان ہزار سالہ شان دار کارناموں سے میو قوم کو کیا ملا جہالت بد نظمی، معاشی تباہی، ویران بستیاں، حقیقت پسندانہ فکر سے محرومی ، اس قسم کے منفی نتائج کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے جو اس کی لمبی فہرست میں شامل کی جاسکتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ میو قوم کو آج ایسی تاریخ میوات کی ضرورت ہے جو ان کے ماضی کا تنقیدی جائزہ لے، نہ کہ انہیں "شان دار قومی کارنامہ، قرار دے کر دوبارہ ان کے اندر وہی مزاج پیدا کر دے جس نے ماضی میں ان کو کچھ نہیں دیا اور نہ آئندہ انہیں اس طرح کچھ مل سکتا ہے۔ وہ شہر کی ایک پر رونق سڑک کے کنارے کھڑا تھا۔ لوگ پیدل اور سواریوں پر ادھر سے اُدھر جاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ " یہ نازک چہرے، یہ خوب صورت جسم ، یہ ہنستی ہوئی مورتیں مرنے کے بعد بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دی جائیں گی ! " یہ سوچ کر بے اختیار اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔
اور پھر ایک آہ کے ساتھ اس کی زبان سے وہ الفاظ نکلے جن کو انسانوں کے سوا پوری کائنات نے سنا : " کیا اس سے بڑی کوئی بات ہے جس کے لئے آدمی تڑپے ، کیا اس سے بڑی کوئی خبر ہے جس کو بتانے والے دوسروں کو بتائیں۔ " کیسی عجیب بات ہے۔ آدمی اُسی بات سے بے خبر ہے جس کو اسے سب سے زیادہ جاننا چاہئے۔ اُسی خبر کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے کوئی نہیں اٹھتا جس کو سب سے زیادہ دوسروں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔