Al-Risala · May 1977 · page 36

ایک نفسیاتی کم زوری جو

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۳۶

ایک نفسیاتی کم زوری جو

تمہارا دین ان کے دین سے بہتر ہے اور تم ان سے اور ان کے پیروؤں سے زیادہ ہدایت یاب ہو (نسار - ۵۱) شک اور انکار ہیں مبتلا کردیتی ہے قرآن میں یہود کا کردار بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نبی آخرالزمان کے ظہور سے پہلے وہ آپ کا انتظار کر رہے تھے۔ حق کے مخالفین کا غلبہ دیکھ کر کہتے تھے کہ افسوس اہل حق کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ۔ دعا کرتے تھے کہ خدایا! دورِ آخر میں جو مصلحِ اعظم آنے والا ہے، اس کو بھیج دے تاکہ اس کے ذریعہ سے اہل حق کو طاقت ملے اور دنیا میں دوبارہ تیرے سچے دین کا بول بالا ہو۔ مگر جب نبی عربی کی شکل میں وہ مصلحِ اعظم آیا تو انھوں نے آپ کا انکار کر دیا۔ حتی کہ آپ کے مخالف ہو کر آپ کے دشمنوں سے جاملے۔ (بقرہ -۸۹) ابن اسحاق نے ابن عباس کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ غزوہ احزاب سے پہلے قریش، غطفان، بنو قریظہ ، بنو نضیر نے آپ کے خلاف محاذ قائم کر لیا تھا۔ اس سلسلے میں قریش کو ابھارنے کے لئے یہودِ مدینہ کے سرداروں کا ایک وفد مکہ پہنچا۔ اس میں حیی بن اخطب، سلام بن ابی حقیق، ابو رافع، ربیع بن ابی حقیق، ابو عمارہ، ہودۃ بن قیس شامل تھے۔ یہ سب لوگ بنو نضیر سے تعلق رکھتے تھے۔ جب وہ مکہ پہنچے تو قریش نے کہا: هولاء احبار اليهود د بنوی نے لکھا ہے کہ جب ابو سفیان نے کعب سے اس کی بابت پوچھا۔ تو کعب نے کہا کہ مجھ سے اپنا دین بیان کرو ابو سفیان نے کہا:

نحن ننز للحجیج الكى ماء ونستقيهم الماء ونقر الضیف ونفك العانی ونصل الرحم و نعمر بیت ربنا ونطوف به ونحن اهل الحرم ومحمد فارق دین آبائه و قطع الرحم وفارق المحرم ودیننا القدیم دین محمد الحدیث ہم حاجیوں کے لئے بہترین جانور ذبح کرتے ہیں۔ ان کو پانی پلاتے ہیں ، مہمانوں کی عزت کرتے ہیں۔ قیدیوں کو چھڑاتے ہیں، رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں، بیت اللہ کی تعمیر کرتے ہیں، اس کا طواف کرتے ہیں۔ ہم اہل حرم میں اور محمد نے باپ دادا کے دین کو ترک کر دیا اور قطع رحمی کی اور حرم کو چھوڑ دیا۔ ہمارا دین قدیم ہے، محمد کا دین نیا ہے۔ یہ سن کر کعب نے کہا:

والله انتم اهدى سبيلا مما عليه محمد :

خدا کی قسم محمد جس راستہ پر ہیں، اس سے تمھارا راستہ بہتر ہے یہود کے جس کردار کا ذکر قرآن میں ہے، وہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ہر دور میں ایسا ہو سکتا ہے۔ ہر زمانہ میں ایسے لوگ پائے جاسکتے ہیں جو اس قسم کی نفسیاتی کمزوری اھل العلم بالکتاب الاولی فاستسلوا ھم ادینا خیر ام دین محمد یہ یہود کے علماء ہیں اور قدیم آسمانی کتابوں کے جاننے والے ہیں ان سے پوچھو کہ ہمارا دین بہتر ہے یا محمد کا دین) ۔ علما یہود نے اس سوال کے جواب میں کہا: دینکم خیر من دینه وانتم اھدی منه وممن تبعه کا ثبوت دیں جو یہود سے ظاہر ہوئی تھی ۔ مزید یہ کہ ایسے لوگ جب خود اپنی دعاؤں اور تمناؤں کے خلاف ایک دعوت حق کا انکار کر رہے ہوں گے تو ان کے پاس اپنے رویہ کے درست ہونے کی بہت معقول تو جیہہ موجود ہوگی ۔ ہم اسلاف کے پیرو ہیں، ہم دینی اداروں کے محافظ ہیں۔ ہم

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page