ایک نفسیاتی کم زوری جو
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۲۷
خدمت خلق کر رہے ہیں، ہم اتحاد ملت کے علم بردار ہیں وغیرہ اسی کمزوری کی ایک صورت وہ ہے جس کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر ۴۰ میں کیا گیا ہے۔
فرعون اور موسیٰ کی کش مکش جب آخری مرحلہ میں پہنچ گئی تو فرعون نے ارادہ کیا کہ آنجناب کو قتل کر دے۔ اس وقت فرعون کے دربار کا ایک شخص کھڑا ہو گیا۔ حضرت موسیٰ کی دعوت کو حق پا کر وہ اندر سے ایمان لا چکا تھا مگر ابھی تک اپنے ایمان کو ظاہر یں کیا تھا۔ اب حضرت موسیٰ کے قتل کی بات ہونے لگی تو وہ کھل کر سامنے آگیا اور آپ کی حمایت میں ایک مفصل تقریر کی۔ اس موقع پر اس رجل مومن نے جو کچھ کہا، اس میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ــــ موسیٰ سے پہلے تمھارے ملک مصر میں یوسف بھیجے گئے۔ انھوں نے کھلی کھلی نشانیاں دکھا کر ثابت کیا کہ وہ بلاشبہ خدا کے رسول ہیں۔ بادشاہ کے خواب کی صحیح تعبیر دے کر تم کو سات سالہ قحط سے بچایا، ایسی برکت اور انصاف والی حکومت قائم کی جو تم نے کبھی اپنے ملک میں نہیں دیکھی تھی، ان کا علم، ان کا اخلاق، ان کی شخصیت تمھارے یہاں ضرب المثل بن گئی۔ تا ہم ان کی زندگی میں تم ان پر ایمان نہ لائے یہاں تک کہ جب خدا نے ان کو اٹھا لیا تو تم کہنے لگے کہ " اب ان کے بعد خدا ایسا کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ ان سب کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے نکل جانے والے اور شبہات میں گرفتار رہنے والے ہیں۔ وہ جو اللہ کی باتوں میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند ہو نہ یہ اللہ اور اہل ایمان کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔ اس طرح اللہ ہر متکبر اور سرکش کے دل پر مہر کر دیتا ہے"
قرآن کا یہ ٹکڑا ایک اعتبار سے حضرت موسیٰ کی دعوت و تاریخ کا ایک صفحہ ہے اور دوسرے اعتبار سے وہ انسان کی ایک کمزوری کو بتاتا ہے جو اکثر انسانوں کے لئے دعوت حق کو قبول کرنے میں مانع بن جاتی ہے۔ یہ ہے معاصرت کا فتنہ۔ وہ لوگ جو عزت، دولت، آرام، سب چیز بس ابھی دنیا میں حاصل کر لینا چاہتے ہیں، ان کے اندر دھیرے دھیرے ایک نفسیاتی پیچیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر چاہنے لگتے ہیں کہ عزت اور اقتدار سب کا سب انہیں کو مل جائے۔ اس کا فطری نتیجہ ہوتا ہے کہ ان چیزوں میں کسی کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھنا انہیں گوارا نہیں ہوتا۔ انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کے لئے اگر انہوں نے مان لیا کہ وہ حق پر ہے یا اس کو فکری وعلمی برتری حاصل ہے تو ان کی اپنی حیثیت گھٹ جائے گی۔ یہ چیزیں انہیں اپنے معاصرین کے لئے کوئی کمال تسلیم کرنے میں مانع رہتی ہے۔ وہ گزرے ہوئے لوگوں کی بڑائی کے آسانی سے معترف ہو جاتے ہیں مگر زندہ لوگوں کی بڑائی ماننے میں انھیں اپنی بڑائی کا مینار گرتا ہوا دکھائی دینے لگتا ہے۔ اپنے ہم زمانہ لوگوں کو چھوٹا دکھانے کے لئے کبھی کہتے ہیں " اب بھلا ویسے لوگ کہاں پیدا ہوں گے" اگر کوئی کھلی ہوئی نشانی سامنے آجاتی ہے تو لایعنی قسم کی بحثیں چھیڑ کر اس کو غلط یا حقیر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی نفسیاتی کمزوری انھیں ایک دائمی شبہ میں مبتلا رکھتی ہے، وہ اس گمان کے سہارے اپنا عزت کا محل قائم رکھتے ہیں کہ پچھلے بزرگوں کو تو ہم مانتے ہیں۔ یہ زندہ شخص ایسا ہے ہی نہیں، ورنہ ہم اس کو بھی مان لیتے" ان کا متکبرانہ مزاج اور ان کی سرکش طبیعت ان کے لئے ایک قسم کی مہر بن جاتی ہے جو کسی معقول بات کو ان کے دل و دماغ میں داخل ہی نہیں ہونے دیتی۔ کھلی کھلی علامتوں کو دیکھ کر بھی وہ اندھے بنے رہتے ہیں یہاں تک کہ اسی حال میں مر جاتے ہیں۔