Al-Risala · May 1977 · page 35

اعداد کی منطق

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۳۵

اعداد کی منطق

مولانا الطاف حسین حالی نے اپنے اسیتاذ مرزا غالب کی وفات پر جو مرثیہ لکھا تھا اس کا ایک مصرعہ یہ تھا :

رحلت فخر روزگار ہے آج

اردو کے ایک پروفیسر نے "انکشاف" کیا ہے کہ "اس مصرعہ سے سید احتشام حسین (۱۹۷۲ - ۱۹۱۲) کی تاریخ وفات برآمد ہورہی ہے اور یہ مصرعہ مرحوم کے لئے حرف بہ حرف پورا اترتا ہے "

اعداد اور ردیف و قافیہ کی منطق بھی کیسی عجیب ہے ۔ اس سے ہر وہ بات ثابت کی جاسکتی ہے جو ٹھوس حقائق سے ثابت کرنا ممکن نہ ہو۔

ایک شاعر تھے جو محمد علی جناح کے سخت مخالف تھے۔ آپ نے سورہ الم (البقرہ) پڑھ کر سنائی تو انھوں نے الم کے اعداد کو گن کر کہا کہ ہم لوگ ایسے دین میں کیسے داخل ہو جائیں اور آپ پر کیسے ایمان لائیں جب کہ الم کے اعداد سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دین کی عمر صرف اکہتر سال ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی یہ بات سن کر مسکرائے۔ تو یہود نے کہا کہ کیا یہ درست نہیں ہے۔ آپ نے قرآن مجید کے دوسرے حروف مقطعات الم، المص وغیرہ پڑھ کر سنائے کہ اب کیا خیال ہے تو یہود شرمندہ ہوئے اور انھوں نے کہا کہ اب تو آپ نے خلط ملط کر دیا۔ (خلطت علینا فلاندری بایها فاخذ)

اکبر کے دور میں جو ایک ہزار سال پر اسلام کے ختم ہو جانے کی پیشین گوئی کی گئی تھی وہ بھی اسی بنیاد پر تھی جس کو شیعہ علماء نے قرآن مجید کی تمام سورتوں کے مقطعات کے اعداد جمع کر کے ۹۹۹ سال نکالا تھا اور جب مسٹر جناح کا انتقال ہوا تو انھوں نے اس فقره سے موصوف کی تاریخ وفات نکالی :

مر گیا مردود فاتحه نه درود

دوسری طرف ان کی ایک عزیزہ کا انتقال ہوا تو ان کی تاریخ وفات کے لئے یه شعر موزوں هو گیا :

پوچھا جو میں نے غیب سے ہاتف نے دی صدا آرام گاه عابده خلد بریں میں هو اس قسم کے اعدادی لطیفے کتاب الہی سے بھی برآمد کئے جاتے رہے ہیں۔ قاضی بیضاوی نے اپنی تفسیر میں حروف مقطعات کی تقریباً ایک درجن توجیہیں نقل کی ہیں ان میں سے ایک یه بھی هے که حساب جمل کے اعتبار سے قوموں کی عمریں اور ان کی موت اس سے نکلتی ہے ۔ چنانچہ یہود جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درباری علما رنے اس کی تائید کی تھی ۔ اس طرح اکبر کو باور کرایا گیا کہ قرآنی شریعت کا دور ختم ہوگیا ۔ اب دوسری شریعت کی ضرورت ہے حقیقی اسلام یہ ہے کہ آدمی خدا ہی کو سب سے بڑا سمجھے، اس سے ہر قسم کی امیدیں وابستہ کرے ۔ مگر جب دین کی روح کمزور پڑ جاتی ہے تو عملیات زندہ ہوتے ہیں ۔ خدا پر بھروسہ باقی نہیں رہتا۔ مخصوص قسم کے اعمال میں پر اسرار خواص کا یقین بڑھ جاتا ہے۔ وہ خدا کو مانتے ہوئے خدا کو چھوڑ دیتے ہیں۔ دین اور عملیات میں وہی فرق ہے جو قرآن اور جادو میں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page