اکھاڑ دیئے جائیں گے
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۴۳
کی یہ آخری حد تھی۔
مشرقی یورپ کے کمیونسٹ ممالک میں انا پوکر کی صفائی کے بعد چوکسی زمانہ میں رومانیہ کی وزبر خارجہ تھی، کوئی دوسری عورت ایسے عہدہ پر نہیں بٹھائی گئی جو اختیار کا عہدہ ہو۔ سوویت روس میں صرف مٹھی بھر عورتیں اوپر کی سطح پر ماتحت عہدوں پر فائز ہیں۔ ممی کلوٹی کے ریٹائر ہونے کے بعد سوویت حکومت نے کوئی دوسری خاتون سفیر مقرر نہیں کی ۔
یہ بے حد حیرت انگیز بات ہے کہ ہندوستان میں خاص طور پر آزادی کے بعد کے ہندوستان میں، عورتیں بڑے بڑے ریاستی عہدوں پر فائز رہی ہیں ۔ اور اب تو وزارت عظمیٰ پر بھی ایک خاتون کا قبضہ ہے ۔ کوئی شخص کوئن الزیبہ اول کے بعض شان دار معاملات پر حیران ہو سکتا ہے تا ہم اپنے زمانہ میں وہ انگلینڈ کی ایک تباہ کن ملکہ سمجھی جاتی تھی۔ روس کی ملکہ کیتھرائن کی زندگی اتنی بدنام تھی اور وہ اتنی خود مختار ہو گئی تھی کہ کئی بار اس کو قتل کرنے کی سازشیں کی گئیں۔ اسی طرح یورپ میں جب بھی عورت کو اقتدار سونپا گیا وہ ریاست کے لئے تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔
فرائڈ کے نقطہ نظر سے جب ان عورتوں کے کیس کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو خاص نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ آج ہم جانتے ہیں کہ کیوں عورتیں مردوں سے مختلف عمل کرتی ہیں جب کہ دونوں ایک ہی پوزیشن میں ہوں۔ مثال کے طور پر فرائڈ کا تجربہ ۵۰ سال کی عمر یا بیوہ کے بارے میں بتاتا ہے جب وہ مایوس کن زندگی سے دوچار ہوں ، تو ان کے اندر انتقام یا اقتدار سے ٹٹے رہنے کا جذبہ بعض حیاتیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہو جاتا ہے، جو ان میں کچھ دنوں بعد پیدا ہوتی ہیں ۔ یہ حیاتیاتی تبدیلیاں ان کے طرز فکر اور ان کے جذبات میں تبدیلیاں لاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نفسیات داں ان عورتوں کو ریٹائرڈ زندگی گزارنے کا مشورہ دیتے ہیں جن میں یہ تبدیلیاں وقوع پذیر ہوچکی ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ بیوہ عورتیں اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا نہیں کر پاتیں ۔ اس کلیہ میں ملکہ وکٹوریہ کا ایک استثناء ہے۔ مگر ملکہ وکٹوریہ کو جب ایک بیوہ کی حیثیت سے حکومت کرنے کا وقت آیا تو برطانیہ ایک دستوری بادشاہت میں تبدیل ہو چکا تھا، وہ آئینی حکمراں رہی مگر حکومت نہ کرسکی۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ ایک غصہ ور ضعیف خاتون کی غلط حکمرانی کے نتائج سے محفوظ رہا۔
مزید یہ کہ تمام عورتوں کی خصوصیت ہے کہ وہ اپنے دل سے سوچتی ہیں۔ نپولین نے کہا تھا ۔ " ایک مرد حکمراں کا دل اس کے دماغ میں ہوتا ہے " مگر ایک عورت کا دماغ عام طور پر اس کے دل میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اور ہر ملک میں دانش مند لوگوں نے کبھی بڑی ذمہ داریوں کا بوجھ عورتوں پر نہیں رکھا۔ بیشتر عورتیں اپنی ذات اپنے خاندان یا اپنے قریبی ماحول کے دائرہ میں سوچتی ہیں۔ وہ اکثر مسائل کو وسیع ہوکر سوچنے کی اہل نہیں ہوتیں ، اور اگر وہ ایسا کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو ان سے زیر دست غلطیاں ہوتی ہیں۔
ہندوستان کے سیاست دانوں نے سائن ٹفک علم نہ ہونے کی وجہ سے ، نیز اپنے بھولا پن ، اور اس شوق میں کہ وہ ترقی پسند کہلائیں عورتوں کو بڑے بڑے عہدوں پر بٹھا دیا ہے ، اسی کا نتیجہ ہے کہ یہ ہندوستان اقتصادی طور پر آزاد، ، سیاسی طور پر طاقت ور ، تہذیبی طور پر ترقی یافتہ ملک بنے ، اب تک حاصل نہ ہوسکا۔ (آرگنائزر)