مر گیا مردود فاتحه نه درود
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۳۷
ہر آدمی ایک فیصلہ کن انجام کی طرف بڑھ رہا ہے ۔
ہندوستان کی آزادی سے بارہ سال پہلے ۱۹۳۵ میں جب آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو نے انگریزی جیل میں اپنی آپ بیتی مکمل کی تو اس کے آخر میں انھوں نے لکھا :
" میں محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی کا ایک باب ختم ہو گیا اور اب اس کا دوسرا باب شروع ہو گا۔ اس میں کیا ہو گا، اس کے متعلق میں کوئی قیاس نہیں کر سکتا ۔ کتاب زندگی کے اگلے ورق سر بمہر ہیں ۔ “ آٹو بائیو گرافی (لندن ۱۹۵۳) صفحہ ۵۹۷ نہرو کی زندگی کے اگلے اور اق کھلے تو معلوم ہوا کہ وہ دنیا کے تیسرے سب سے بڑے ملک کے وزیرِ اعظم ہیں۔ انسانی آبادی کے چھٹے حصہ پر انھوں نے اپنی ساری عمر بلا شرکت حکومت کی ۔ ان کا اقتدار اتنا مکمل تھا کہ اپنی وزارتی کابینہ کے طاقت ور ترین شخص سردار پٹیل سے جب ان کے اختلافات ہوئے تو ہندوستان کے اس مردِ آہن نے بالآخر نہرو کے آگے ہتھیار ڈال دئے اور لکھ کر دے دیا کہ اختلافی معاملات میں عملاً میں اسی رائے کا پابند رہوں گا جو آپ کی رائے ہو گی ۔ اس قسم کے کامل اقتدار کے باوجود پنڈت نہرو اپنی آخری عمر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ شاید حقیقت کی کچھ اور منزلیں ہیں جہاں تک ان کی رسائی نہ ہوسکی ۔ جنوری ۱۹۶۴ میں مستشرقین کی بین الاقوامی کانگریس نئی دہلی میں ہوئی تھی۔ اس میں ہندوستان کے علاوہ دوسرے ملکوں کے بارہ سو ڈئلی گیٹ شریک ہوئے۔ پنڈت نہرو نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا:
” میں ایک سیاست داں ہوں اور مجھے سوچنے کے لئے وقت کم ملتا ہے۔ پھر بھی بعض اوقات میں یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہوں کہ آخر یہ دنیا کیا ہے، کس لئے ہے۔ ہم کیا ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ یہ میرا یقین ہے کہ کچھ طاقتیں ہیں جو ہماری تقدیر بناتی ہیں“ (نیشنل ہیرلڈ ۶ جنوری ۱۹۶۴)
پنڈت نہرو کے انتقال کے بعد، ایک مختصر وقفہ کو چھوڑ کر، ہندوستان کا اقتدار دوبارہ ان کی صاحبزادی مسز اندرا گاندھی کے ہاتھ میں آیا اور گیارہ سال دو مہینے تک اتنی شان کے ساتھ انھوں نے حکومت کی کہ لوگ کہنے لگے کہ بیٹی باپ پر بھی بازی لے گئی ہے۔ مگر بالاخر قدرت نے ان کی سیاسی کتاب کو بھی اس طرح سر مہر کر دیا کہ وہ بھی دوبارہ اسی سوال سے دوچار ہیں جس سے ان کا باپ چالیس سال پہلے دو چار تھا ـــــــــ ” زندگی کیا ہے اور بالآخر آدمی کا انجام کیا ہونے والا ہے“ تاریخ کے اندر بے شمار سبق ہیں۔ ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ ہر آدمی ایک ایسی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں آدمی کی خوش فہمیاں اس کا ساتھ چھوڑ دیں گی۔ کوئی اقتدار کسی کے کام نہ آئے گا۔ وہاں فیصلہ کا سارا اختیار دوسری طاقت کے ہاتھ میں ہوگا۔ دنیا میں انسان کا انجام آخرت کے اسی انجام کا ابتدائی نمونہ ہے۔ ہر شخص جس کو زندگی کے اسٹیج پر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملتا ہے، وہ انتہائی نادانی کے ساتھ اسی عمل کو دہراتا ہے جو پچھلے تجربہ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔