Al-Risala · May 1977 · page 38

مر گیا مردود فاتحه نه درود

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۳۸

سورہ طٰہ میں ارشاد ہے کہ پچھلے لوگوں کے حالات میں تمھارے لئے سبق ہے اور قرآن کی دعوت میں ایک مکمل نصیحت نامہ تمھارے لئے بھیج دیا گیا ہے۔ کھلا کھلا حق آجانے کے بعد بھی جو اس سے اعراض کرے، قیامت کے دن اس کو بہت بڑا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ اس دن جب کہ صور پھونکا جائے گا اور خدا تمام مجرموں کو اس طرح گھیر لائے گا کہ ان کی آنکھیں خوف و دہشت سے پتھرائی ہوئی ہوں گی۔ اس وقت دنیا کی زندگی ان کو اتنی حقیر اور مختصر معلوم ہوگی کہ آپس میں چپکے چپکے کہیں گے : ”دنیا میں مشکل سے ہم نے دس دن گزارے ہوں گے “ پھر کوئی بولے گا : ” نہیں، تمھاری دنیا کی زندگی تو بس ایک دن کی زندگی تھی “ جب قیامت آئے گی تو پہاڑوں کو خدا دھول بنا کر اڑا دے گا اور ساری زمین کو ایسا سپیشل میدان بنا دے گا کہ اس میں کہیں کوئی اونچ نیچ دکھائی نہ دے گی۔ اس دن تمام انسان پکارنے والے کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے۔ کوئی کسی قسم کی اکڑ نہ دکھا سکے گا۔ تمام آوازیں خدا کے آگے پست ہو جائیں گی ۔ سارے لوگ خاموش ہوں گے۔ چلنے کی ہلکی پھسپھسا ہٹ کے سوا تم کوئی آواز نہ سنو گے ۔ اس روز کوئی سفارش کسی کے لئے کار گر نہ ہوگی۔ تمام لوگوں کے سر اس حیّ قیوم کے آگے جھک جائیں گے۔ اس دن وہ شخص نا کام و نامراد ہوگا جو کسی ظلم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ اور جو خدا پر ایمان رکھنے والا ہو اور نیک عمل کرے ، اس کے لئے کسی قسم کا کوئی خطرہ اس دن نہ ہوگا۔ وزیر داخله چرن سنگھ نے ۳۱ مارچ کو لوک سبھا میں یہ سنسنی خیز انکشاف کیا کہ انٹرنل ایمرجنسی کے نفاذ پر صدر جمہوریہ کے دستخط ۲۵ جون ۱۹۷۵ء کو ہوئے تھے اور مرکزی کابینہ کے سامنے منظوری کے لئے اس کو اگلے دن ۲۶ جون کو پیش کیا گیا۔ یہ دستور کی دفعہ ۳۵۲ (۱) کے صریح خلاف تھا۔ کیوں کہ اس کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ اولا وزراء کی کونسل میں ہونا چاہئے ۔

وزیر داخلہ کے اس بیان کے بعد جنتا پارٹی کے ممبروں کی طرف سے ”شرم شرم“ کے نعرے بلند ہوئے۔ مگر کانگریس کے بنچوں پر مکمل خاموشی طاری رہی۔ کانگریس جب تمام آوازیں پست ہو جائیں گی پارٹی کے ممبران اپنی نشستوں پر اس طرح چپ بیٹھے ہوئے تھے جیسے ان کے پاس الفاظ ہی نہ ہوں۔ حالانکہ یہی لوگ ہیں جو ۲۰ مارچ سے پہلے اس طرح بولتے تھے جیسے ڈکشنری کے سارے الفاظ صرف انھیں کے لئے بنائے گئے ہیں۔ حتی کہ انھوں نے اپنے آپ کو ۶۰ کروڑ باشندوں کے اس ملک کا مالک ثابت کرنے کے لئے یہ الفاظ بھی تلاش کئے تھے : ”اندرا از انڈیا، انڈیا از اندرا“ یہ خبر پڑھ کر راقم الحروف کو قرآن کی وہ آیت یاد آگئی

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page