ادار یہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۳
ادار یہ
یہ اللہ کا فضل خاص ہے کہ الرساله نے انتہائی مختصر مدت میں حیرت انگیز طور پر غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ نہ صرف ملک کے مختلف حلقوں میں بلکہ ملک کے باہر بھی اس کا استقبال اس طرح ہوا ہے گویا لوگ زبان حال سے کہہ رہے ہوں :
للہ الحمد ہر آن چیز که خاطر می خواست آخر آمد ز پس پرده تقدیر پدید اس سلسلہ میں ایک خوشی کی خبر الرساله کا عربی ایڈیشن ہے۔ پچھلے شمارہ میں ہم نے کہا تھا کہ الرساله کے کام کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ یہ پرچہ کم از کم پانچ زبانوں میں جاری ہو: اردو، ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی۔
اللہ کا شکر ہے کہ اردو کے بعد عربی میں الرساله کے شائع ہونے کا نہایت معقول انتظام ہو گیا ہے۔ اور یہ انتظام بھی اس مقام پر ہوا ہے جو عالم عرب کا علمی ذہنی مرکز ہے یعنی قاہرہ میں۔ پچھلے اکتوبر نومبر کے دوران راقم الحروف کو دوبارہ قاہرہ جانے کا اتفاق ہوا۔ مصر کے معروف ناشر المختار الاسلامی کی پیش کش پر ان سے باقاعدہ طور پر یہ معاہدہ ہو گیا ہے کہ الرساله کے تمام اہم مضامین کا عربی ترجمہ سہ ماہی مجلہ کی شکل میں مستقل طور پر شائع کیا جائے ۔ یہ گویا ایک قسم کا کتابی سلسلہ ہوگا جو سال میں چار شماروں کی صورت میں پیش کیا جائے گا۔ انشاء اللہ دو تین ماہ کے اندر اس کتابی سلسلہ کا پہلا شمارہ شائع ہو جائے گا۔ الرساله کے اردو مضامین کو عربی میں منتقل کرنے کا کام ایک مصری استاذ انجام دیں گے جو عربی ادیب ہونے کے ساتھ اردو بھی اچھی جانتے ہیں۔ المختارسلا (قاہرہ) سے یہ معاہدہ بھی طے پایا ہے کہ وہ محترم مولانا وحید الدین خاں صاحب کی مؤلفات کے انگریزی ترجمے شائع کریں ۔ یہ کام اگلے پانچ چھ ماہ میں انشاء اللہ شروع ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ المختار الاسلامی مولانا محترم کی تمام کتابوں کا عربی ترجمہ شائع کر رہا ہے۔ اس سلسلہ میں الإِسْلَامُ يَتحدِي،الدِّينُ ، الدين في مواجهة العلم، حکمتہ الدین اور الاسلام في العصر الحدیث شائع ہو کر عالم عرب میں انتہائی مقبولیت حاصل کر چکی ہیں۔ اول الذکر کتاب کے عربی میں غیر قانونی ایڈیشنوں کے علاوہ اب تک آٹھ ایڈیشن قاہرہ، بیروت اور کویت میں شائع ہو چکے ہیں اور اس کا ترجمہ ترکی زبان میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ راقم الحروف نے الرياض (سعودی عرب) میں اسلامی فقہ کا نفرنس میں شرکت کے دوران ایک ترکی ذمہ دار سے یہ معاہدہ کیا ہے کہ مولانا موصوف کی تمام کتابیں ترکی میں ترجمہ ہوں ۔ الاسلام یتحدی کے علاوہ الدین فی مواجہۃ العلم کا ترکی ترجمہ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے ۔
" الرسالہ میں سیاسی چاشنی نہیں ہوتی" اس شکایت کے بارے میں ہم کہیں گے کہ الرسالة کا مقصد تو سیاسی ذوق کو ختم کرنا ہے ۔ پھر وہ خود کس طرح سیاسی غذا کا دستر خوان بن سکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہماری ملی صحافت نتیجہ خیز نہ ہونے کی واحد سب سے بڑی وجہ اس کا سیاسی ذوق ہی تھا ۔ دینی اور تعمیری کام کے لئے سیاست سے زیادہ قاتل اور کوئی چیز نہیں ہے اور ہم اس سے مکمل طور پر دور رہنا چاہتے ہیں ۔ یہ کوئی وقتی حکمت عملی نہیں ہے بلکہ ایک سوچی سمجھی راہ ہے جس پر ہم سہا برس سے عامل ہیں ۔ (ظفر الاسلام خان) "
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues