Al-Risala · May 1977 · page 44

ابراہیم خلیل احمد کی مؤلفات

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۴۴

مولانا زاہد علی خاں 10.. میا ئنہ جو مدعا میں ہے ان تصویروں میں ماں بیٹا آئر لینڈ کیویلیج علی گڑھ آبادی سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ (شائع شدہ ۱۹۷۵ء) میں بتایا گیا ہے کہ ۱۹۷۶ء کے اختتام تک دنیا کی آبادی تین ارب ۸۹ کروڑ ۸۰ لاکھ تھی۔ اس میں عورتیں ۵۳ فی صد اور مرد ۴۷ فی صد ہیں۔ گویا تقریباً چار ارب کی آبادی میں مردوں کی نسبت ۴۲ کروڑ عورتیں زیادہ ہیں۔

یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ جنگ اور مختلف حادثات کی وجہ سے ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ آبادی میں عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہو جاتی ہے۔ ۱۸۹۰ء اور ۱۹۰۱ء کے درمیان برطانیہ، فرانس، جرمنی، سویڈن، اسپین، آسٹریلیا وغیرہ مغربی ملکوں میں جو مردم شماری ہوئی، اس میں مجموعی طور پر تقریباً ۴۴ لاکھ عورتیں زیادہ تھیں ۔ یکسوگی کے اصول کے مطابق دیکھا جاچکا تو ان ۴۴ لاکھ یا مذکورہ بالا ۴۲ کروڑ عورتوں کے شوہر مہیا نہیں ہو سکتے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ان ”فاضل عورتوں سے کہہ دیا جائے کہ تم اپنے دلوں سے مرد کی خواہش ہمیشہ کے لئے نکال دو۔ ظاہر ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی معاشرہ کو جہاں یک زوجگی کا اصول نافذ ہے اس کا حل صنفی انارکی کی صورت میں تلاش کرنا پڑا۔ اسلام اس کا بالکل سادہ اور فطری حل یہ پیش کرتا ہے کہ تم عدل کی شرط کے ساتھ حسب ضرورت ایک سے زیادہ عورتوں سے نکاح کر لو (نساء - ۳) اسلام نے اپنے اس چھوٹے سے قانون کے ذریعہ کروڑوں عورتوں کو اپنے دوسرے ہم جنسوں کے برابر حقوق دے کر مساوات کی صف میں کھڑا کر دیا۔ انسان کی خصوصیت یہ ہے کہ کسی کام کے جائز راستے بند ہو جائیں تو وہ نا جائز ذرائع سے اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ خدائی قانون نے جائز حدیں وسعت پیدا کر کے نا جائز راستوں میں جانے کا راستہ بند کر دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page