ابراہیم خلیل احمد کی مؤلفات
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۴۳
پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال بتاتا ہے اور گندی چیزوں کو ان پر حرام کرتا ہے اور ان کے اوپر جو بوجھ اور طوق تھے، ان کو اُن سے دور کرتا ہے۔ سو جو لوگ ان رسول پر ایمان لائے ہیں اور اس کی حمایت کرتے ہیں اور اس کی مدد کرتے ہیں۔ اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے، ایسے لوگ ہی کامیاب ہونے والے ہیں (۱۵۷ : ۷)
اس آیت کو پڑھ کر انھوں نے اپنی زندگی کا اہم ترین فیصلہ کر لی۱۔ محمد صبح کو انھوں نے اپنی بیوی کو بتایا کہ انھوں نے طے کر لیا ہے کہ وہ اسلام قبول کر لیں ۔ وہ بھاگی بھاگی اسوان میں مسیحی مشن کے صدر کے پاس گئی جو کہ شاؤٹز نامی ایک سوئس آدمی تھا۔ اس نے گھبرا کر ان سے سوال کیا کہ کیا آپ کی بیوی کا کہنا درست ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ بالکل ٹھیک ہے۔ شاؤٹز نے اس کو سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن جب کامیاب نہ ہو سکا تو یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ آج سے اپنے آپ کو کام سے برخاست سمجھو ۔ اسی کے ساتھ ساتھ شاؤٹز نے سارے اسوان میں یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ ابراہیم خلیل پاگل ہو گئے ہیں۔ ابراہیم خلیل کو وہاں کے عیسائیوں نے اس قدر پریشان کیا کہ وہ اسوان چھوڑ کر قاہرہ آگئے۔ یہاں وہ اسٹینڈرڈ اسٹیشنری کمپنی میں ڈیٹی نہ ہٹے اور مصری قانون کے مطابق گورنریٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنے یقین وارادہ کا اظہار کیا اور آخر کار ۳۱ مئی ۱۹۶۰ء کو باقاعدہ طور پر ابراہیم خلیل فلپس سے ابراہیم خلیل احمد ہو گئے ۔
اسلام لانے کے بعد جذبہ ایمانی سے سرشار ابراہیم خلیل نے مصری مسجدوں اور کالجوں میں تقریریں کرنا اور کتابیں لکھنا شروع کر دیں جن میں وہ اسلام کے محاسن بیان کرتے اور لوگوں کو استشراتی ومسیحی خیالات سے آگاہ کرتے۔ ان کی کوششوں سے بہت سے عیسائی نوجوانوں کو نور ہدایت ملا۔ ان کی سرگرمیوں سے پریشان ہو کر مصری کنیسہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کو روکا جائے۔ اس مرحلہ پر بات آجانے سے مصری وزارت داخلہ نے انھیں بلاک تنبیہہ کی اور انھیں وطنی اتحاد کے قانون (قانون الوحدة الوطنية) کی زد میں آنے کی دھمکی دے کر خاموش کرنے کی کوشش کی۔ اس وجہ سے وہ سعودی عرب ہجرت کر گئے جہاں وہ کلیة الدعوة وأصول الدین میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں ۔
ابراہیم خلیل احمد کی مؤلفات
ا۔ محمد فی التوراة والانجیل والقرآن ۔
۲۔ المستشرقون والمبشرون فی العالم العربی والاسلامی ڈائریکٹر (سیلز) ہو گئے اور ۱۹۵۹ تک کام کرتے رہے اور آخر کار ۲۵ دسمبر ۱۹۵۹ کو انھوں نے علانیہ اپنے مسلم ہونے کا اعلان قاہرہ کے امریکی مشن کے نام ایک تار ٫ اسرائیل والتلمود ٫ الاستشراق والتبشير وصلتها بالاستعمار العالمي ٫ تاریخ بنی اسرائیل (تین حصوں میں)
میں کیا۔ اور قاہرہ گورنریٹ کو درخواست دے دی کہ ان کے اسلام لانے کے سلسلے میں ضروری اجراءات پوری کی جائیں۔ اس عرصہ میں ان کے پاس کنیبہ کے بہت سے ذمہ دار سمجھانے اور لبھانے آئے، مگر وہ اپنے موقف سے اسلام في الكتب السماويّه لمسیح انسان لا اله المخطط البشیری وال استعماری اعرف عدوک : اسرائیل عقیدة وسیاسته