Al-Risala · May 1977 · page 58

غلط استدلال

الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۵۸

غلط استدلال

سورہ انفال (آیت ۴۱) میں یہ حکم ہے کہ اموال غنیمت کا خمس ریاست کا حصہ ہے اور بقیہ فوجیوں کا۔ ابتدائی دور میں اسی کے مطابق عمل ہوتا رہا۔ مدائن، جلولاء، حمص، حلب وغیرہ فتح ہوئے تو ان کے اموال غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ ریاست کو بھیج دیا گیا اور بقیہ چار حصے فوجیوں میں تقسیم کر دیئے گئے۔ واضح ہو کہ اس زمانہ میں فوجی با تنخواہ نہیں ہوتے تھے، بلکہ ا کارانہ طور پر لڑنے کے لئے جایا کرتے تھے۔ حضرت عمر کے زمانہ میں سواد عراق کی زمینیں فتح ہوئیں تو فاتح فوجیوں نے چاہا کہ ان زمینوں کو بھی اسی طرح تقسیم کیا جائے، جس طرح اس سے پہلے اموال تقسیم ہوتے رہے ہیں۔ حضرت عمر نے اس سے اختلاف کیا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ یہ زمینیں تم لوگوں کو دے دوں تو دوسرے مسلمانوں کے لئے کیا رہے گا۔ اور حکومت کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے۔ (فہمانا تسدّ به الثغور وما يكون للذرية والأرامل) اس مسئلہ پر کئی روز تک بحث ہوتی رہی۔ فوجیوں کا کہنا تھا کہ یہ ہماری ملکیت اس لئے ہم کو ملنا چاہئے (اتفقٹ ما أفاء اللہ علينا با سيا فنا على قوم لم يحضروا) بالآخر فیصلہ حضرت عمر کی رائے پر ہوا۔

جو لوگ اجتماعی ملکیت کے نظریہ پر یقین رکھتے ہیں؛ وہ اس واقعہ سے دلیل لاتے ہیں کہ انفرادی ملکیت کو منسوخ کر کے اجتماعی ملکیت قائم کرنا اسلام میں جائز ہے مگر اس واقعہ سے یہ بات قطعاً ثابت نہیں ہوتی۔ حضرت عمر اور ان کے ہم خیال (عثمان علی طلحہ رض وغیرہ) کی جو گفتگوئیں اور تقریریں منقول ہوئی ہیں، ان سے بالکل یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ان زمینوں کو فی الواقع فوجیوں کی ملکیت سمجھتے تھے اور اس کے باوجود ان کو چھین کر ریاستی ملکیت بنانا انھوں نے جائز سمجھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ زمینیں تو ابھی نئی نئی فتح ہوئی تھیں اور ان پر ملکیت کے تحقق کا سوال تھا نہ کہ فرد کی ملکیت سے نکال کر اجتماع کی ملکیت میں دینے کا۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اپنی تقریر میں واضح لفظوں میں کہا کہ یہ زمینیں تمھاری ملکیت نہیں ہیں۔ اگر وہ تمھاری ملکیت ہوتیں تو میں ان کو چھیننا اپنے لئے جائز نہ سمجھتا۔

قد سمعتم كلام هؤلاء القوم الذين زعموا انی اظلمهم حقوقهم وانی اعوذ بالله ان اركب ظلما۔ لئن كنت ظلمتهم شيئا هو لهم واعطيته غيرهم لقد شقيت الفاروق عمر، از محمد حسنین هیکل الجزء الثانی صفحه ۲۹۶ تم لوگوں نے ان فوجیوں کی گفتگو سنی جن کا خیال ہے کہ میں ان کے حقوق غصب کر رہا ہوں۔ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ کسی کا حق غصب کروں۔ اگر میں ایسا کروں کہ ایک چیز جوان کی ہو، اس کو لے کر کسی دوسرے کو دے دوں تو میں شقی ہوں گا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ اجتماعی ملکیت کے نظریہ کی تردید ہے، کیونکہ اس میں خلیفہ دوم صاف لفظوں میں فرما رہے ہیں کہ مجھ کو (با لفاظ دیگر حکومت کو) تمھاری کسی ملکیت کو منسوخ کرنے کا حق نہیں ہے۔ اگر میں ایسا کروں، تو میں شقاوت کا مرتکب ہوں گا۔ یہ واقعہ اس کے برعکس بات ثابت کر رہا ہے جس کے لئے اسے پیش کیا جاتا ہے ۔ ۔۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1977 All issues

Printed page