مہورت
الرسالہ، مئی ۱۹۷۷، صفحہ ۵۷
جیون اپنایا جس میں روزانہ تیاگ کرنا پڑتا تھا۔ یہ دھرِموں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان میں بھی کچھ پڑاؤ ہنالو؛ تیاگ ایک دِن کے تیاگ نہ تھا بلکہ روز روز کا تیاگ تھا۔ جیسے اسلام نے کہا ہے پانچ مار، بار مار شبھ مہورت کو حیات ایک رن کا میاں نہ تھا بلکہ روز روز کے روز خیات تھا۔ خچروں پر لدا ہوا مال آتا تھا۔ وہ فوراً لوگوں میں اسے بانٹ دیتے اور پھر خالی کے خالی ہاتھ ہو جاتے تھے۔ " قرآن "تم اخبار پڑھتے ہو، تم نے کبھی اس پر خیال کیا کہ یہی روز روز پڑھتے ہو! کچھ نیا گھٹا ہے کبھی ؟ نیا تو قرآن میں گھٹتا ہے۔"
(گھٹنا : واقع ہونا)
مہورت
"مہورت وقت کا کوئی ناپ جوکھ نہیں ہے۔
وقت کے باہر کی جھلک ہے، بیشبہ مہورت میں سارے کام شروع ہوں ۔ اس لئے سارے دھرموں نے کہا ہے کہ صبح اٹھتے ہی پرارتھنا پہلا کام ہو، تاکہ مہورت سدھ جائے۔ پھر تم چلو یا ترا پر، پھر کوئی حرج نہیں۔ پھر پہلے سلام لے لے۔ پاپ بار بار بار بار عورت کو پکڑ پکڑ لو۔ تو ایسے اگر کوئی دن میں پانچ بار نماز پڑھے، سچ میں ہی پڑھے، ایسا دہرا ہی نہ رہا ہو صرف ایک فارملٹی کو۔ تو وہ پائے گا حیران ہو کے کہ سنسار میں رہتے ہوئے بھی سنسار میں نہیں ہے۔ کیونکہ بار بار اس کے پہلے کہ سنسار کی دھول جمے، وہ پھر نہالے گا؛ اس کے پہلے کہ سنسار کا اپدرو (فتنہ و فساد) اسے گھیر لے اور پژمرد ہ کر جائے، وہ پھر تازہ ہو جائے گا، پھر وہ پر ماتما سے شکتی لے لے گا، پھر اپنے بھیتر چھپ کے ایک ڈبکی لگائے گا، پھر پر بھا منڈت (منور) ہوکر، آنند منڈت ہو کے (طرب سے بھر کر) واپس سنسار میں آئے گا۔ رات سوتے وقت بھی پھر دھیان کے لمحہ ہی میں سونا ہے۔ پھر لمحہ بھر کو دھاگا پکڑ لو، دن میں کئی بار کھو گیا ہوگا“۔
"آچاریہ رج نیش کے کمرہ میں جو کتابیں رکھی ہوئی ہیں، ان میں مذہب سے لے کر مارکسزم اور سیاست تک شامل ہیں ۔ لینن، کرشنا مورتی، نطشے، سارترے گورڈ گیف، ہیڈ گیراور شنکر سبھی کی تصنیفات ان کی لائبریری میں موجود ہیں۔ ان کا ایک شاگرد کا کہنا ہے کہ آچاریہ راج نیش کی معلومات کو وقت کے مطابق رکھنے کے لئے ہم چھ ہزار روپیہ مہینہ خرچ کرتے ہیں ! ہمارے لئے وہ ایک قسم کے کمپیوٹر ہیں۔ ہم انھیں کتابیں دے دیتے ہیں اور وہ اس حکمت کا خلاصہ ہمیں بتا دیتے ہیں جو ان کتابوں کے اندر ہوتا ہے۔ کتاب کو پڑھنا، اس کا تجزیہ، اس کو ہضم کرنا، اس کی تعبیر کرنا، یہ سب ہمیں نہیں کرنا پڑتا۔ اچاریہ رج نیش کی انگریزی بھی اتنی ہی اچھی ہے جتنی کہ ہندی جو کہ ان کی مادری زبان ہے۔ وہ دونوں زبانوں پر غیر معمولی قدرت رکھتے ہیں۔ “ شری اے ۔ ایس۔ رمن، جنھوں نے اچاریہ رج نیش کے کیمپ میں چند دن گزارے تھے، مذکورہ باتیں کہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انسان کو باطنی سفر INNER JOURNEY کا پیغام دیتے ہیں۔
(سنڈے اسٹینڈرڈ ۲۷ فروری ۱۹۷۲)